ملفوظات (جلد 2) — Page 414
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱۴ جلد دوم سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح موعود واقعی حکم ہے تو پھر اس کے حکم اور فعل کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دو۔ اور اس کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک باتوں کی عزت اور عظمت کرنے والے ٹھہرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کافی ہے وہ تسلی دیتے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہو گا وہ حکم عدل ہوگا اگر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو پھر کب ہوگی۔ یہ طریق ہر گز اچھا اور مبارک نہیں ہو سکتا کہ ایمان بھی ہو اور دل کے بعض گوشوں میں بدظنیاں بھی ہوں۔ میں اگر صادق نہیں ہوں تو پھر جاؤ اور صادق تلاش کرو اور یقیناً سمجھو کہ اس وقت اور صادق نہیں مل سکتا ۔ اور پھر اگر دوسرا کوئی صادق نہ ملے اور نہیں ملے گا تو پھر میں اتنا حق مانگتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو دیا ہے۔ جن لوگوں نے میرا انکار کیا ہے اور جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں انہوں نے مجھے شناخت نہیں کیا اور جس نے مجھے تسلیم کیا اور پھر اعتراض رکھتا ہے وہ اور بھی بد قسمت ہے کہ دیکھ کر اندھا ہوا ۔ اصل بات یہ ہے کہ معاصرت بھی رتبہ کو گھٹا دیتی ہے اس لیے حضرت مسیح کہتے ہیں کہ نبی بے عزت نہیں ہوتا مگر اپنے وطن میں ۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کو اہل وطن سے کیا کیا تکلیفیں اور صدمے اٹھانے پڑے تھے اور یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایک سنت چلی آتی ہے ہم اس سے الگ کیونکر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہم کو جو کچھ اپنے مخالفوں سے سننا پڑا۔ یہ اسی سنت کے موافق ہے مَا يَأْتِيهِم مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (الحجر : ۱۲) افسوس اگر یہ لوگ صاف نیت سے میرے پاس آتے تو میں ان کو وہ دکھاتا جو خدا نے مجھے دیا ہے اور وہ خدا خودان پر اپنا فضل کرتا اور انہیں سمجھا دیتا دیا مگر انہوں نے بخل اور حسد سے کام لیا۔ اب میں ان کو کس طرح سمجھاؤں؟ جب انسان سچے دل سے حق طلبی کے لیے آتا ہے تو سب سے فیصلہ ہو جاتے ہیں لیکن جب بد گوئی اور شرارت مقصود ہو تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ میں کب تک ان کے فیصلے کرتا رہوں گا۔ حج الکرامہ میں ابن عربی کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسیح موعود جب آئے گا تو اسے مفتری اور جاہل ٹھہرایا جائے گا اور یہاں تک بھی کہا جاوے گا کہ وہ دین کو تغیر کرتا ہے۔ اس وقت ایسا ہی ہو رہا