ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 413

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۱۳ جلد دوم کے موافق ایک تغیر بھی اس کے ساتھ ضروری ہے کیونکہ وہ بحیثیت حکم ہونے کے تمام بدعات اور حکم خرابیوں کو جو فیج اعوج کے زمانہ میں پیدا ہونی ہیں دور کرے گا اور لوگ ان کو تغیر دین کے نام سے یاد کریں گے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر تم مخالفوں سے ڈرتے ہو تو پھر مجھے قبول کرنے کا کیا فائدہ ہوا میری مخالفت میں کافر اور دجال ٹھہرائے گئے اور اس سے بڑھ کر کیا ہوگا ؟ اور پھر اگر یہی بات ہے کہ اس کو تغیر دین کہتے ہیں تو بتاؤ کہ میں نے جہاد کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے اور شائع کر دیا ہے کہ دین کے لئے تلوار اٹھانا حرام ہے پھر اس کی پروا کیوں کرتے ہو؟ ہمارے مخالف تو يَضَعُ الْجِزْيَةَ کہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ يَضَعُ الْحَرْبَ درست ہے ۔ غرض اگر آپ یہ چاہیں کہ ان لوگوں کے پنجوں سے بچ جائیں، یہ مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے جب تک پورے برگشتہ نہ ہو جائیں پس اب ” یک در گیر محکم گیر پر عمل کرو۔ حکم و عدل کے فیصلوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھو جو شخص ایمان لاتا ہے اسے اپنے ایمان سے یقین اور عرفان تک ترقی کرنی چاہیے نہ یہ کہ وہ پھر ظن میں گرفتار ہو۔ یادر کھوظن مفید نہیں ہو سکتا ۔ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا (یونس : ۳۷) یقین ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو با مراد کر سکتی ہے۔ یقین کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ اگر انسان ہر بات پر بدظنی کرنے لگے تو شائد ایک دم بھی دنیا میں نہ گزار سکے ۔ وہ پانی نہ پی سکے کہ شائد اس میں زہر ملا دیا ہو۔ بازار کی چیزیں نہ کھا سکے کہ ان میں ہلاک کرنے والی کوئی شے نہ ہو۔ پھر کس طرح وہ رہ سکتا ہے یہ ایک موٹی مثال ہے اسی طرح پر انسان روحانی امور میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اب تم خود یہ سوچ لو اور اپنے دلوں میں فیصلہ کر لو کہ کیا تم نے میرے ہاتھ پر جو بیعت کی ہے اور مجھے مسیح موعود حکم ، عدل مانا ہے تو اس ماننے کے بعد میرے کسی فیصلہ یا فعل پر اگر دل میں کوئی کدورت یا رنج آتا ہے تو اپنے ایمان کی فکر کرو ۔ وہ ایمان جو خدشات اور توہمات سے بھرا ہوا ہے کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہو گا لیکن اگر تم نے سچے دل الحکم جلد ۶ نمبر ۴۳ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۲ صفحه ۲،۱