ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 408

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٧٠ جلد دوم پیشگوئی پوری ہو جائے یہ ایک بار یک ستر اور دقیق معرفت کا نکتہ ہے جس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا کہ انبیاء اور اہل اللہ کیوں پیشگوئیوں کے پورا کرنے اور ہونے کی ایک غیر معمولی رغبت اور تحریک اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ۔ خدا تعالیٰ کے نشانات پورا کرنے کے لئے اہل اللہ کا نور قلب جس قدر انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں یا اہل اللہ ہوئے ہیں ان کو فطرہ رغبت دی جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کو پورا کرنے کے لئے ہمہ تن طیار ہوتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام نے اپنی جگہ داؤ دی تخت کی بحالی والی پیشگوئی کے لئے کس قدر سعی اور کوشش کی کہ اپنے شاگردوں کو یہاں تک حکم دیا کہ جس کے پاس تلواریں اور ہتھیار نہ ہوں وہ اپنے کپڑے بیچ کر ہتھیار خریدے۔ اب اگر اس پیشگوئی کو پورا کرنے کی وہ فطری خواہش اور آرزو نہ تھی جو انبیاء علیہم السلام میں ہوتی ہے تو کوئی ہم کو و اور تھی جو میں ہے توکوئی ہم کو بتائے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ اور ایسا ہی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں اگر یہ طبعی جوش نہ تھا تو آپ کیوں حدیبیہ کی طرف روانہ ہوئے جب کہ کوئی میعاد اور وقت بتا یا نہیں گیا تھا ؟ بات یہی ہے کہ یہ گروہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کی حرمت اور عزت کرتا ہے اور چونکہ ان نشانات کے پورا ہونے پر معرفت اور یقین میں ترقی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا اظہار ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ پورے ہوں اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نشان پورا ہوتا تو سجدہ کیا کرتے تھے۔ جب تک دل دھوئے نہ جاویں اور ایمان حجاب اور زنگ کی تہوں سے صاف نہ کیا جاوے سچا اسلام اور سچی توحید جو مدار نجات ہے حاصل نہیں ہو سکتی اور دل کے دھونے اور ان حجب ظلمانیہ کے دور کرنے کا آلہ یہی خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں جن سے خود خدا تعالیٰ کی ہستی اور نبوت پر ایمان پیدا ہوتا ہے اور جب تک او سچا ایمان نہ ہو جو کچھ کرتا ہے وہ صرف رسوم اور ظاہر داری کے طور پر کرتا ہے۔ اے پس جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بات تھی تو میرا نور قلب کب اس کے خلاف کرنے کی رائے الحکم جلد ۶ نمبر ۴۲ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱، ۲