ملفوظات (جلد 2) — Page 407
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۰۷ جلد دوم نے فرمایا تھا کہ آنے والے موعود کا یہ بھی ایک نشان ہے کہ اس کے لیے نماز جمع کی جائے گی۔ پس تمہیں خدا کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ یہ نشان بھی پورا ہوتا ہو تم نے دیکھ لیا۔ لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ یہ حدیث موضوع ہے تو میں نے پہلے اس کی بابت ایک جواب تو یہ دیا ہے کہ محدثین نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ اہلِ کشف اور مامور تنقید احادیث میں اُن کے اصولوں کے محتاج اور پابند نہیں ہوتے تو پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس حدیث کی صحت کو ظاہر کر دیا ہے تو اس پر زور دینا تقویٰ کے خلاف ہے۔ پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ محد ثین خود ہی مانتے ہیں کہ حدیث میں سونے کے کنگن پہنے کی سخت ممانعت ہے مگر وہ کیا بات تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک صحابی کو سونے کے کنگن پہنا دیئے ۔ چنانچہ اس صحابی نے بھی انکار کیا مگر وہ حضرت عمرؓ نے اُس کو پہنا کر ہی چھوڑے ۔ کیا وہ اُس حرمت سے آگاہ نہ تھے؟ تھے اور ضرور تھے مگر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر ہزاروں حدیثوں کو قربان کرنے کو تیار تھے۔ اب غور کا مقام ہے کہ جب ایک پیشگوئی کے پورا ہونے میں حرمت کا جواز گراد یا تو بلا مطر و بلا عذر والی بات پر انکار کیوں؟ ایک نکتہ معرفت احادیث میں تو یہاں تک آیا ہے کہ اپنے خواب کو بھی سچا کرنے کی کوشش کرو چہ جائیکہ نبی کریم کی پیشگوئی جس شخص کو ایسا موقع ملے اور وہ عمل نہ کرے اور اس کو پورا کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ وہ دشمن اسلام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ ام ہے اور رسول الله بھوٹا ٹھہرانا چاہتا ہے اور آپ کے مخالفوں کو اعتراض کا موقع دینا چاہتا۔ دینا چاہتا ہے۔ صحابہ کا مذہب یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر اپنی معرفت اور ایمان میں ترقی دیکھتے تھے اور وہ اس قدر عاشق تھے کہ اگر آنحضرت سفر کو جاتے اور پیشگوئی کے طور پر کہہ دیتے کہ فلاں منزل پر نماز جمع کریں گے اور ان کو موقع مل جاتا تو وہ خواہ کچھ ہی ہوتا ضرور جمع کر لیتے اور خود آنحضرت ہی کی طرف دیکھو کہ آپ پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے کس قدر مشتاق تھے ۔ ہم کو کوئی بتائے کہ آپ حدیبیہ کی طرف کیوں گئے کیا کوئی وقت ان کو بتایا گیا تھا اور کسی میعاد سے اطلاع دی گئی تھی پھر کیا بات تھی ؟ یہی وجہ تھی کہ آپ چاہتے تھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی