ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 378

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۸ جلد دوم گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی کیا گیا تھا اور یہاں بھی منصوبے ہوئے اور اپنے طور پر آج کل بھی فرق نہیں کیا جاتا مگر خدا تعالیٰ کا مکر ان سب پر غالب آیا۔ مگر مخفی اور لطیف تدبیر کو کہتے ہیں۔ لیکھرام نے اپنے خطوط میں یہی لکھا تھا کہ خَيْرُ الماکرین سے میرے لئے کوئی نشان طلب کرو۔ جب خدا تعالیٰ بار یک اسباب سے مجرم کو ہلاک یا ذلیل کرتا ہے اور اپنے بندہ کو جو راست باز ہوتا ہے دشمن کے منصوبوں اور شرارتوں سے محفوظ رکھتا ہے اس وقت اس کا نام خَيْرُ الْمَاکرین بیان ہوتا ہے یعنی ایسے اسباب مجرم کی سزا کے لئے مہیا کرتا ہے کہ جن اسباب کو وہ اپنے لئے کسی اور غرض سے مہیا کرتا ہے۔ پس وہی اسباب جو بہتری کے لئے بناتا ہے ہلاکت کا باعث بنتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسیح کو ایسے طرز پر بچایا کہ وہ اسباب جوان کی ہلاکت کے لئے جمع ہوئے تھے۔ ان کی زندگی کا موجب ثابت ہوئے اور ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے کفار مکہ کے منصوبوں سے بچالیا اور اسی طرح پر یہاں بھی اس کا وعدہ ہے۔ اگر کوئی یوں کہے کہ وہاں ہی محفوظ کیوں نہ رکھا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سنت اللہ یہ نہیں ہے بلکہ ہ خدا اپنا علم دکھانا چاہتا ہے اس لئے وہاں سے نکال لیتا ہے۔ مکر کی حد اسی وقت تک ہے جبکہ وہ انسانی تدابیر تک ہو مگر جب انسانی منصوبوں کے رنگ سے نکل گیا پھر وہ خارق عادت معجزہ ہوا۔ اگر ذرا بھی ایمان کسی میں ہو تو وہ ان امور کو صفائی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے لئے ہجرت نہ ہو۔ لے ۲۷ نومبر ۱۹۰۱ء حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تقریر جو آپ نے کلام الہی کے معجزہ ہونے کے متعلق فرمائی۔ ۲۷ نومبر ۱۹۰۱ ء بوقت سیر اللہ تعالیٰ کا کلام جو اس کے برگزیدوں ، رسولوں پر نازل ہوتا ہے اس میں اعجاز التنزیل کچھ شک نہیں کہ وہ عظیم الشان اعجاز اپنے اندر رکھتا ہے اور کوئی شخص الحکم جلد ۵ نمبر ۴۴ مورخه ۳۰ نومبر ۱۹۰۱ ۱۰ تا ۴