ملفوظات (جلد 2) — Page 376
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۶ جلد دوم جواب میں یہی کہا کہ ایلیا آچکا اور وہ یہی یحیی بن زکریا ہے ۔ یہودی سمجھتے تھے کہ خود ایلیا آئے گا اس لئے وہ منکر ہو گئے ۔ چنانچہ ایک یہودی کی کتاب میں نے منگوائی تھی ۔ اس میں وہ صاف لکھتا ہے ۔ کہ اگر خدا تعالیٰ ہم سے مؤاخذہ کرے گا تو ہم ملا کی نبی کی کتاب کھول کر رکھ دیں گے کہ اس میں تو صاف لکھا ہوا ہے کہ ایلیا پہلے آسمان سے آئے گا۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ وہ بیٹی ہی ہوگا ۔ اب ہمارا دعوی تو خود حضرت مسیح کی ہائیکورٹ سے فیصلہ ہو گیا کہ جس کے دوبارہ آنے کا وعدہ ہوتا ہے۔ اس کی آمد ثانی کا یہ رنگ ہوتا ہے کہ اس کی خُو بو اور خواص پر کوئی دوسرا آتا ہے۔ یہی دھوکا اور غلطی ہمارے علماء کو لگی ہے۔ یہ اصل میں ایک استعارہ ہے۔ جس کو انہوں نے حقیقت پر حمل کر لیا ہے۔ ایسا ہی دجال اور اس کے دیگر لوازمات کو حقیقت بنایا۔ عیسائیوں نے بھی دھوکا کھایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد فارقلیط کے آنے کی پیشگوئی کی تھی۔ عیسائیوں نے اس سے روح القدس مراد لی حالانکہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد تھے۔ یہ لفظ فارقلیط فارق اور لیط سے مرکب ہے۔ لیط شیطان کو کہتے ہیں (اور فارق کے معنی جدا کرنے والا یعنی شیطان کو دور کرنے والا ۔ ناقل ) غرض یہ بڑی خطرناک غلطی ہے جو انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے وقت لوگ کھاتے ہیں کہ استعارات لوح لو حقیقت پر اور حقیقت کو استعارات پر محمول کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت اقدس نے جناب ام المومنین حضرت ام المومنین کی ایک رؤیا رضی اللہ عنہا کی ایک رویا بنائی جو انہوں نے گزشتہ شب کو دیکھی تھی ۔ اور وہ یہ ہے آپ نے دیکھا کہ دو پہر کو بعد ظہر جس وقت عموماً یکے بٹالہ سے آتے ہیں۔ میں ( حضرت اقدس ) کچھ اسباب اور دو سر دے لے کر گیا ہوں اور اُم المومنین کو دیئے ہیں کہ مرزاغلام قادر آگئے ہیں اور رحمت اللہ بھی ہے۔ ( رحمت اللہ حضرت اقدس کے والد مرحوم کا مختار تھا۔ ایڈیٹر ) اس پر اُم المومنین نے حضرت سے دریافت کیا۔ اس خیال سے کہ ان کا گھر تو دوسری طرف ہے اور ان کی بیوی بھی موجود ہے