ملفوظات (جلد 2) — Page 365
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۵ جلد دوم انہیں تباہ اور ہلاک کر دیتی ہیں جس طرح پر سیاست اور ملک داری کے اصولوں کی تہ میں یہ بات رکھی ہوئی ہے کہ امن عامہ میں خلل انداز ہونے والوں کو وہ چور ہوں یا ڈا کو باغی ہوں یا کسی اور جرم کے مجرم محض اس لئے سزا دی جاتی ہے تا آئندہ کے لئے امن ہو اور دوسروں کو اس سے عبرت ۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ قانون رکھا ہوا ہے کہ وہ شریروں اور سرکشوں کو جو اس کے حدود اور اوامر کی پروا نہیں کرتے سزا دیتا ہے تا کہ حد سے نہ بڑھ جائیں ۔ جنہوں نے حد سے بڑھنا چاہا خدا نے وہیں انہیں تنبیہ کی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سزا اور تنبیہ اس شخص کے لئے بھی جسے دی جاتی ہے اور دوسروں کے واسطے بھی جو عبرت کی نگاہ سے اسے دیکھتے ہیں بطور رحمت ہے کیونکہ اگر سزا نہ دی جاتی تو امن اٹھ جاتا اور انجام کا نتیجہ بہت ہی برا ہوتا۔ قانون قدرت پر نظر کرو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فطرت انسانی میں یہ بات رکھی ہوئی ہے اور اس فطرتی نقش ہی کی بنا پر قرآن نے یہ فرمایا ہے وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيُوةٌ يَأْولِي الْأَلْبَابِ (البقرۃ: ۱۸۰) یعنی تمہارے تمدن کے قیام کے لئے قصاص کا ہونا ضروری ہے اگر افعال کے کچھ نتائج ہی نہیں ہوتے تو وہ افعال کیا ہوتے ؟ اور ان سے کیا غرض مقصود ہوتی ؟ غرض ضروری اور واقعی طور پر یہ سزائیں نہیں ہیں جو یہاں دی جاتی ہیں بلکہ یہ ایک ظل ہیں اصل سزاؤں کا اور ان کی غرض ہے عبرت ۔ دوسرے عالم کے مقاصد اور ہیں اور وہ بالاتر اور بالاتر ہیں وہاں تو مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًا يرة (الزلزال : 9) کا انعکاسی نمونہ لوگ دیکھ لیں گے اور انسان کو اپنے مخفی در مخفی گناہوں اور عزیمتوں کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ دنیا اور آخرت کی سزاؤں میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ دنیا کی سزائیں امر قائم کرنے اور عبرت کے لئے ہیں اور آخرت کی سزائیں افعال انسانی کے آخری اور انتہائی نتائج ہیں وہاں اسے سزا ضرور ملنی ٹھہری کیونکہ اس نے زہر کھائی ہوئی ہے اور یہ ممکن نہیں کہ بدوں تریاق وہ اس زہر کے اثر سے محفوظ رہ سکے ۔ عاقبت کی سزا اپنے اندر ایک فلسفیانہ حقیقت رکھتی ہے جس کو کوئی مذہب بجز اسلام کے کامل طور پر بیان نہیں کر سکا۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا (بنی اسراءيل: ۷۳) یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا