ملفوظات (جلد 2) — Page 364
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۴ جلد دوم انسان خدا ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اس لئے اس کی ساری خوشیوں کی انتہا اور ساری راحتوں کی غایت اسی میں ہو سکتی ہے کہ وہ سارے کا سارا خدا ہی کا ہو جاوے اور جو تعلق اُلوہیت اور عبودیت میں ہونا چاہیے یا یوں کہو کہ ہے جب تک انسان اس کو مستحکم نہیں کرتا اور اسے حیر فعل میں نہیں لاتا وہ سچی خوشحالی کو پانہیں سکتا ۔ انبیاء علیہم السلام کے آنے کی یہی غرض ہوتی ہے اور وہ اسی اہم مقصد کو لے کر آتے ہیں کہ وہ انسان کو یہ گم شدہ متاع واپس دینا چاہتے ہیں ۔ جو عبودیت اور الوہیت کے درمیانی رشتہ کی ہوتی ہے مگر جب انسان خدا سے دور ہٹ جاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس محبت کی زنجیر سے الگ کر لیتا ہے جو خدا اور بندہ کے درمیان ہونی چاہیے اور یہ فعل انسان کا ہوتا ہے اور اس پر خدا کا یہ فعل ہوتا ہے کہ وہ بھی اس سے دور ہٹتا ہے اور اسی بعد کے لحاظ سے انسانی قلب پر تاریکی کا ظہور ہوتا ہے اور جس طرح آفتاب کی طرف سے دروازہ بند کرنے پر ظلمت اور تاریکی سے کمرہ بھر جاتا ہے اسی طرح پر خدا سے منہ پھیرنے سے اندرونہ انسانی ظلمت سے بھر نے لگتا ہے اور جوں جوں وہ دور ہوتا جاتا ہے ظلمت بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ دل بالکل سیاہ ہو جاتا ہے اور یہی ظلمت ہے جو جہنم کہلاتی ہے کیونکہ اسی سے ایک عذاب پیدا ہوتا ہے۔ اب اس عذاب سے اگر بچنے کے لئے وہ یہ سعی کرتا ہے کہ ان اسباب کو جو خدا تعالیٰ سے بعد اور دوری کا موجب ہوئے ہیں چھوڑ دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ رجوع کرتا ہے اور جیسے کھڑکیوں کے کھول دینے سے گئی ہوئی روشنی واپس آ کر تاریکی کو دور کر دیتی ہے اسی طرح پر سعادت کا نور جو جا تا رہا تھا وہ اسی انسان کو جو رجوع کرتا ہے پھر دیا جاتا ہے اور وہ اس سے پورا مستفید ہونے لگتا ہے۔ اور توبہ کی یہی حقیقت ہے جس کی نظیر ہم قانون قدرت میں صاف مشاہدہ کرتے ہیں ایک بات یہ بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ نبیوں کے زمانہ میں جو قوموں پر عذاب آتے ہیں جیسے لوط کی قوم پر یا یہودیوں کو بخت نصر یا طبیطس رومی کے ذریعہ تباہ کیا گیا تو ان عذابوں کا موجب محض اختلاف نہیں ہوتا بلکہ ان کے عذابوں اور دکھوں کا موجب وہ شرارتیں اور شوخیاں اور تکلیفیں ہوتی ہیں جو وہ نبیوں سے کرتے اور انہیں پہنچاتے ہیں آخر ان کی شرارتیں ان پر ہی لوٹ کر پڑتی ہیں اور