ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 362

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۲ جلد دوم کریں۔ تجربہ اور مشاہدہ خود گواہ ہے ہم تو صرف وہی طریق بتانا چاہتے ہیں جو خدا نے ہمیں سمجھایا ہے اور جس طریق پر ہمیں اطلاع دی ہے۔ پس گناہوں سے بچنے کا سچا طریق جو مجھے بتایا گیا ہے اور جس کو کل انبیاء کی پاک جماعت نے اپنے اپنے وقت پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے وہ یہی ہے کہ انسانی جذبات پر انسان کو اسی وقت کامل فتح مل سکتی ہے اور شیطان اور اس کی ذریت کی شکست کا وہی وقت ہو سکتا ہے جب انسان کے دل پر ایک درخشاں یقین نازل ہو کہ خدا ہے اور اس کی پاک صفات کے صریح خلاف ہے کہ کوئی گناہ کرے اور گناہ گاروں پر اس کا غضب بھڑکتا ہے اور پاک بازوں کو اس کا فضل و رحمت ہر بلا سے نجات دیتے ہیں اور یہ معرفت اور یہ یقین حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ان لوگوں کے پاس ایک عرصہ تک نہ رہیں جو خدا تعالیٰ سے ایک شدید تعلق رکھتے ہیں اور خدا سے لے کر مخلوق کو پہنچاتے ہیں۔ پس یہی ہماری غرض ہے جو لے کر ہم دنیا میں آئے ہیں اور اسی کو ہم نے آپ کو سنا دیا ہے اب آپ اس پر غور کریں اور جو سوال آپ کو اس پر ہو وہ آپ بے شک کریں۔ مسٹر ڈکسن ۔ کیا خدا اس جہان میں سزا دیتا ہے یا دوسرے جہان میں؟! جزاوسزا کی حقیقت حضرت اقدس ۔ میں نے آپ کے سوال کو سجھ لیا ہےجو کچھ اللہ تعالی نے نبیوں کی معرفت ہمیں بتایا ہے اور واقعات صحیحہ نے جس کی شہادت دی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سزا و جزا کا قانون خدا تعالیٰ نے ایسا مقرر کیا ہے کہ اس کا سلسلہ اسی دنیا سے شروع ہو جاتا ہے اور جو شوخیاں اور شرارتیں انسان کرتا ہے وہ بجائے خود انہیں محسوس کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ ان کی سزا اور پاداش جو یہاں ملتی ہے اس کی غرض تنبیہ ہوتی ہے تا کہ تو بہ اور رجوع سے شوخ انسان اپنی حالت میں نمایاں تبدیلی پیدا کرے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ عبودیت کا جو رشتہ ہے اس کو قائم کرنے میں جو غفلت اس نے کی ہے اس پر اطلاع پا کر اسے مستحکم کرنا چاہیے۔ اس وقت یا تو انسان اس تنبیہ سے فائدہ اٹھا کر اپنی کمزوری کا علاج اللہ تعالیٰ کی مدد الحکم جلد ۵ نمبر ۷ ۴ مورخہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۱ تا ۳