ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 361

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۱ جلد دوم کے ساتھ ایسی بے ہودہ بات اور افعال کا مرتکب ہوتا ہے غرض ہر ایک آدمی کو جو دیکھتے ہیں تو اسے کسی نہ کسی قسم کے گناہ میں مبتلا پاتے ہیں اور بعض حصوں میں اور بعض قسم کے گناہوں میں بالکل معصوم ہوتے ہیں پس جس قدر افراد انسانوں کے پائے جاتے ہیں ان کی بابت ہم کبھی بھی قطعی اور یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ سب کے سب ایک ہی قسم کے گناہ کرتے ہیں۔ نہیں بلکہ کوئی کسی میں مبتلا ہے کوئی دوسرے میں گرفتار ہے کسی قوم کی بابت وہ مغرب میں ہو یا مشرق میں ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ بالکل گناہ سے بچی ہوئی ہے صرف اس قدر تو مانیں گے کہ وہ فلاں گناہ وہ نہیں کرتی مگر یہ کبھی نہیں کہہ سکتے کہ بالکل نہیں کرتی ۔ یہ فطرت اور یہ قوت کہ بالکل گناہوں سے بیزاری اور نفرت پیدا ہو جائے سچی تبدیلی کے بغیر کسی کومل نہیں سکتی اور اسی تبدیلی کو پیدا کرنا ہمارا کام ہے۔ جو لوگ صدق دل اور اخلاص کے ساتھ صحت نیت اور پاک ارادہ اور مسیح موعود کا اہم کام ود کا اہم کام بھی تلاش کے ساتھ ایک مدت تک ہماری صحبت میں رہیں تو ہم یقیناً کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی تجلیات کی چمکار سے ان کی اندرونی تاریکیوں کو دور کر دے گا اور انہیں ایک نئی معرفت اور نیا یقین خدا پر پیدا ہو گا اور یہی وہ ذریعے ہیں جو انسان کو گناہ کے زہر کے اثر سے بچا لیتے ہیں اور اس کے لئے تریاقی قوت پیدا کر دیتے ہیں ۔ یہی وہ خدمت ہے جو ہمارے سپرد ہوئی ہے اور اسی ایک ضرورت کو میں پورا کرنا چاہتا ہوں جو انسان اس زنجیر اور قید سے نجات پانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے جو گناہ کی زنجیریں ہیں اسے اسی طریق پر نجات ملے گی ۔ کی ضرورت کرتا ہے جوگناہ کی پانی اسے سرنجات ملے ۔ پس اگر کوئی قصے کہانیوں کو ہاتھ سے پھینک کر اور ان وہمی حیلوں اور خیالی ذریعوں کو چھوڑ کر کہ کسی کی خودکشی بھی گناہ سے بچاسکتی ہے صدق اور اخلاص سے یہاں رہے تو وہ خدا کو دیکھ لے گا اور خدا کو دیکھ لینا ہی گناہ پر موت وارد کرتا ہے ورنہ اتنی ہی بات پر خوش ہو جانا کہ فلاں گناہ مجھ میں نہیں ہے یا فلاں عیب سے میں بچا ہوا ہوں حقیقی نجات کا وارث نہیں بنا سکتا۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ کسی نے اسٹرکنیا کھا کر موت حاصل کی اور کسی نے سم الفار یا بادام کے زہر سے جان دے دی۔ ہم کو اس سے کچھ غرض نہیں ہے کہ عیسائیوں کے طریق نجات پر یا کسی اور مذہب کے پیش کردہ دستور پر کوئی لمبی چوڑی بحث