ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 347

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۷ جلد دوم با خدا بزرگ تھے ۔ چنانچہ لوگ کہا کرتے تھے کہ ان کو گولی کا اثر نہیں ہوتا۔ ایک وقت میں ان کے دستر خوان پر ۵۰۰ آدمی ہوا کرتے تھے اور اکثر حافظ قرآن اور عالم ان کے پاس رہتے تھے ۔ اور قادیان کے اردگرد ایک فصیل ہوتی تھی جس پر تین یا چار چھکڑے برابر برابر چلا کرتے تھے۔ خدا کی قدرت سکھوں کی تعدی اور لوٹ کھسوٹ میں وہ سب سلسلہ جاتا رہا اور ہمارے بزرگ یہاں سے چلے گئے ۔ پھر جب امن ہوا تو واپس آئے ۔ سید فرمایا۔ سید با اعتبار اولاد علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نہیں کہلاتے بلکہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اولاد ہونے کی حیثیت سے کہلاتے ہیں۔ ترکوں کے ذریعہ سے اسلام کو قوت حاصل ہوئی فرمایا۔ اگر چہ ہمارے نزدیک إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتقكم (الحجرات : ۱۴) ہی ہے اور ہمیں خواہ مخواہ ضروری نہیں کہ ترکوں کی تعریف کریں یا کسی اور کی مگر سچی اور حقیقی بات کے اظہار سے ہم رک نہیں سکتے ۔ ترکوں کے ذریعہ سے اسلام کو بہت بڑی قوت حاصل ہوئی ہے۔ یہ کہنا کہ وہ پہلے کافر تھے یہ طعن درست نہیں۔ کوئی دوسو برس پہلے کافر ہوا کوئی چار سو برس پہلے یہ کیا ہے؟ آخر جو آج سید کہلاتے ہیں کیا ان کے آباؤ اجداد پر کوئی وقت کفر کی حالت کا نہیں گزرا؟ پھر ایسے اعتراض کرنا دانش مندی نہیں ہے۔ ہندوستان میں جب یہ غل آئے تو انہوں نے مسجدیں بنوائیں اور اپنا قیام کیا۔ النَّاسُ عَلَی دِینِ مُلُوكِهِمْ کے اثر سے اس سے اسلام پھیلنا شروع ہوا۔ اور اب تک بھی حرمین شریفین ترکوں ہی کی حفاظت کے نیچے خدا نے رکھی ہوئی ہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں خدا تعالیٰ نے دوہی گروہ رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ترک دوسرے سادات ۔ ترک ظاہری حکومت اور ریاست کے حقدار ہوئے اور سادات کو فقر کا مبدء قرار دیا گیا چنانچہ صوفیوں نے فقر اور روحانی فیوض کا مبدء سادات ہی کو ٹھہرایا ہے اور میں نے بھی اپنے کشوف میں ایسا ہی پایا ہے۔ دنیا کا عروج ترکوں کو ملا ہے۔ حضرت اقدس یہ ذکر کر رہے تھے کہ ایک یورپین صاحب بہادر اندر آئے اور ٹوپی اتار کر مجلس میں