ملفوظات (جلد 2) — Page 322
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۲ جلد دوم ایک تقریر کے بعد پھر حضرت اقدس کی تقریر ہوگی اور جہاں جہاں یہ لوگ جائیں اسے کھول کر سناتے پھریں۔ سیر سے واپس تشریف لا کر حضرت اقدس نے قاضی یوسف علی صاحب نعمانی کو دیکھا اور اندر تشریف لے گئے ۔ پھر ظہر کے وقت تشریف لائے ، نمازیں جمع ہوئیں ۔ آج اتفاق سے ڈاک میں حکیم محمد اجمل خان صاحب دہلوی کا خط اور حاذق الملک میموریل فنڈ کے کاغذات آپ کے پاس پہنچے۔ حضور نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تبلیغ کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ جناب کو فرصت ہو گی تو اس پر ایک خط لکھیں گے جو الحکم میں طبع ہو گا۔ اے یکم نومبر ۱۹۰۱ء بروز جمعۃ المبارک في حضرت عیسی اور مریم علیہما السلام کی تطہیر حضرت اقدم جی اللہ فی علم الانبیاء عليه الصلوة والسلام بعد نماز مغرب حسب معمول بیٹھ گئے ۔ ارد گر د خدام ارادت مندی کے ساتھ حلقہ باندھے بیٹھے تھے۔ آپ نے کل کے سلسلہ گفتگو میں فرمایا که مسیح علیہ السلام کی شان میں جس قدر اطراء کیا گیا ہے اور پھر جس قدر ان پر حملے کر کے ان کو گرایا گیا ہے۔ میں ان دونوں پہلوؤں کو صاف کر کے مسیح علیہ السلام کی شان کو اعتدال پر لانا چاہتا ہوں اور جو کچھ وہ تھے اس سے دنیا کو اطلاع دینا بھی میرا کام ہے۔ آج میں اس پر بہت غور کرتا رہا کہ عیسائیوں نے جو مسیح کو خدا بناتے ہیں باوجود خدا بنانے کے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اور باتوں کے علاوہ ایک نئی بات مجھے معلوم ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخ سے معلوم ہوا ہے کہ جس یوسف کے ساتھ حضرت مریم کی شادی ہوئی اس کی ایک بیوی پہلے بھی موجود تھی ۔ اب غور طلب یہ امر ہے کہ یہودیوں نے تو اپنی شرارت سے اور حد سے بڑھی ہوئی شوخی سے حضرت مسیح کی پیدائش کو نا جائز قرار الحکم جلد ۵ نمبر ۴۱ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۱