ملفوظات (جلد 2) — Page 320
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۰ جلد دوم کی پروا نہیں کرتا اور اس کام کو کئے جاتا ہوں۔ چونکہ دن چھوٹے چھوٹے ہوتے ٹے ہوتے ہیں اور مجھے معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ دن کدھر جاتا ہے۔ اسی وقت خبر ہوتی ہے جب شام کی نماز کے لئے وضو کر نے کے واسطے پانی کا لوٹا رکھ دیا جاتا ہے ۔ اس وقت مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کاش اتنا دن اور ہوتا حالانکہ مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں مگر جب پاخانہ کی حاجت بھی ہوتی ہے تو مجھے رنج ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی اور ایسا ہی روٹی کے لئے جب کئی مرتبہ کہتے ہیں تو بڑا جبر کر کے جلد جلد چند لقمے کھا لیتا ہوں ۔ بظاہر تو میں روٹی کھاتا ہوا دکھائی دیتا ہوں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ مجھے پتا بھی نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جاتی ہے اور کیا کھاتا ہوں ۔ میری توجہ اور خیال اسی طرف لگا ہوا ہوتا ہے۔ پس یہ کام بہت ضروری ہے اور خدا چاہے تو یہ ایک نشان ہوگا جس کی نظیر لانے پر کوئی قادر نہ ہوگا۔ ناظرین ! حضرت اقدس کے اس جوش کا کسی قدر پتہ ان الفاظ سے مل سکتا ہے جو آپ کو اعلائے کلمتہ الاسلام کے لئے حق نے عطا فرمایا ہے ۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم کسی دھن میں ہیں اور وہ کسی خیال میں پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمانے لگے کہ اگر چہ یہ کتاب بظاہر کوئی عجیب اور اعجاز نظر نہ آتی ہو مگر اس کی اشاعت پر دنیا کو معلوم ہو جائے گا۔ جب ہم نے مہوتسو کے لئے مضمون لکھنا شروع کیا تو ہمارے ایک دوست نے اپنے خیال کے موافق کچھ خوشی ظاہر نہ کی مگر خدا تعالیٰ نے الہاما خوشخبری دی کہ وہ مضمون بالا رہا۔ چنانچہ یہ اشتہار جلسہ سے پہلے ہی شائع کر دیا گیا۔ آخر جب وہ جلسہ میں پڑھا گیا تو اس کی عظمت اور اس کے حقائق کو سب جلسہ میں تواس نے تسلیم کیا یہاں تک تسلیم کہ لاہور کے انگریزی، اردو اخبارات نے اس کے بالا رہنے کا اعتراف کیا۔ اسی طرح پر جب یہ کتاب شائع ہو کر باہر نکلے گی تب پتہ لگے گا۔ میں نے ایک بار ایک شخص کو دہلی سے عطر لانے کے لئے کہا وہ کہنے لگا کہ جب میں عطار کی دکان پر گیا تو جو عطر وہ دکھاتا تھا میں اس کو ہی واپس کر دیتا تھا۔ آخر عطار نے کہا کہ میاں تم یہاں دوکان میں بیٹھے ہو تمہیں پتہ نہیں لگتا۔ جب دوکان سے باہر لے کر جاؤ گے تب اس عطر کی حقیقت معلوم ہو گی