ملفوظات (جلد 2) — Page 314
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۴ جلد دوم سے جب ا جب انہوں نے یہی سوال کیا تو انہوں نے اس پیشگوئی کو تو تسلیم کر لیا لیکن یہ فیصلہ کر لیا کہ آنے والے ایلیا سے مراد یحیلی ہے۔ یہودی اس فیصلہ کو سن کر یحیی کے پاس پہنچے۔ وہ اس مباحثہ سے بکلی بے خبر اور نا واقف تھے۔ انہوں نے ایلیا ہونے سے انکار کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہودیوں کی مخالفت اور بھی تیز ہو گئی اور انہوں نے اصل حقیقت سے بے خبر رہ کر ظاہر الفاظ پر زور دیا اور اس طرح پر خدا تعالیٰ کے ایک سچے نبی کا انکار کر دیا۔ نہ صرف انکار کیا بلکہ ہر طرح سے اس کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کی اور آخر خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک مغضوب اور لعنتی قوم ٹھہر گئے۔ اب غور کرو اگر ایلیا کا آنا درست تھا اور حصہ حضرت یحییٰ کی شکل میں ایلیا کا بروزی رنگ میں آنا درست نہیں تو ہمارے مخالف مسلمان بتائیں کہ ملا کی نبی کے صحیفہ کی پیشگوئی کو مد نظر رکھ کر حضرت عیسیٰ کی نبوت کا کیا ثبوت ہے؟ پھر یقیناً وہ نبوت ثابت نہیں ہوسکتی اور دوسری مشکل یہ پڑتی ہے کہ حضرت عیسیٰ جو مردوں کو زندہ کرنے والے تھے کیوں انہوں نے ایلیا کو زندہ نہ کر لیا ؟ اس سے دو باتیں اور بھی ثابت ہو گئیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت اور سنت نہیں کہ وہ مردوں کو دوبارہ دنیا میں بھیجے اور زندہ کرے۔ دوسری یہ کہ مسیح نے کوئی مردہ زندہ نہیں کیا۔ پس خوب غور کرو! اگر بروزی آمد ایلیا کی مراد نہ ہو گی تو مسیح کی نبوت جاتی رہے گی اور پھر اس کی زدا اسلام اور قرآن شریف پر پڑے گی۔ مسیح آنے والا میچ آچکا ہے اس وقت صبح کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر دوسرے وجوہ اور ضروریات کو چھوڑ دیا جاوے تو سلسلہ مماثلت موسوی کے لحاظ سے بھی سخت ضرورت ہے اس لیے کہ حضرت مسیح علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے۔ غرض میں تو بروز کی ایک نظیر پیش کرتا ہوں لیکن جو یہ کہتے ہیں کہ نہیں خود حضرت مسیح ہی دوبارہ آئیں گے انہیں بھی تو کوئی نظیر پیش کرنی چاہیے اور اگر وہ نہیں کر سکتے اور یقینا نہیں کر سکتے تو پھر کیوں ایسی بات کرتے ہیں جو محدثات میں داخل ہے؟ محدثات سے پر ہیز کرو کیونکہ وہ ہلاکت کی راہ ہے۔ یہودیوں پر غضب الہی اسی وجہ سے نازل ہوا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے ایک رسول کا انکار کر دیا اور اس انکار کے لیے ان کو یہ مصیبت پیش آئی کہ انہوں نے استعارہ کو حقیقت پر حمل کیا