ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 313

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۳ کے پیدا کر دیتا ہے یا خارق عادت صبر ان کو عطا کرتا ہے۔ لے جلد دوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام دنا فتدلى دنا فتدلى (النجم :9) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کی طرف ہو کر نوع انسان کی طرف جھکا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال اعلیٰ درجہ کا کمال ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور اس کمال میں آپ کے دو درجے بیان فرمائے ہیں ۔ ایک صعود، دوسرا نزول ۔ اللہ تعا را نزول ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف تو آپ کا صعود ہوا یعنی خدا تعالیٰ کی محبت اور صدق و وفا میں ایسے کھینچے گئے کہ خود اس ذات اقدس کے دنو کا درجہ آپ کو عطا ہوا ۔ دُنُو اقرب سے ابلغ ہے۔ اس لیے یہاں یہ لفظ اختیار کیا ۔ جب اللہ تعالیٰ کے فیوضات اور برکات سے آپ نے حصہ لیا تو پھر بنی نوع پر رحمت کے لیے نزول فرمایا۔ یہ وہی رحمت تھی جس کا اشارہ اللہ تعالیٰ نے مَا أَرْسَلْتُكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (الانبیاء : ۱۰۸) فرمایا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم قاسم کا بھی یہی سر ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے لیتے ہیں جو کچھ لیتے ہیں اور پھر مخلوق کو پہنچاتے ہیں۔ بس مخلوق کو پہنچانے کے واسطے آپ کا نزول ہوا۔ اس دنا فتداٹی میں اسی صعود اور نزول کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علو مرتبہ کی دلیل ہے۔ پیشگوئیوں میں استعارات انبیا علیہم السلام کے آنے کے وقت دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جو استعارات کو حقیقت پر محمول کر لیتے ہیں اور حقیقت کو استعارہ بنانا چاہتے ہیں ۔ یہ گروہ ان کی شناخت سے محروم رہ جاتا ہے۔ لیکن ایک اور گروہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید سے اصل حقیقت کو پالیتے ہیں ۔ وہ استعارہ کو استعارہ اور حقیقت کو حقیقت ٹھہراتے ہیں جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح کی آمد کے وقت ملا کی نبی کے صحیفہ کی بنا پر کہا کہ مسیح کے آنے کی یہ نشانی ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے آوے۔ مسیح علیہ السلام الحکم جلد ۹ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه ۸