ملفوظات (جلد 2) — Page 284
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۴ جلد دوم لفاظیوں کا نام اسلام رکھ چھوڑا ہے اور ذرا بھی آگے نہیں بڑھتے ۔ انہوں نے فیصلہ کر رکھا ہے جیسا عیسائیوں یا اور باطل پرستوں نے مان رکھا ہے کہ خدا کی طاقتیں پیچھے رہ گئی ہیں اور آگے نہیں ہیں گویا جو کچھ اُن کے ہاتھ میں ہے وہ نرے قصے اور کہانیاں ہی ہیں۔ جن میں حقیقت کی روح اور زندگی کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ انہوں نے اسلام کا یہ مغز اور خلاصہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ صرف قصوں کی پیروی کرو اور کچھ نہیں ۔ جس قدر یہ ظلم اسلام پر کیا گیا ہے اس کی نظیر اپنے رنگ میں بہت ہی کم ملے گی کیونکہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب تھا اور ہے جو ہر زمانہ میں زندہ مذہب کہلا سکتا ہے کیونکہ اس کے نشانات مردہ مذاہب کی طرح پیچھے نہیں رہ گئے بلکہ اس کے ساتھ ہر وقت رہتے ہیں ۔ مگر ان خشک موجدوں نے اس کو بھی مردہ مذاہب کے ساتھ ملانے کی کوشش کی جبکہ اُس کے انوار و برکات کو ایک وقت خاص تک محدود کر دیا۔ ابتدا میں جب اس فرقہ نے سر نکالا تو بعض طبیعت رسا والے بھی اُن کے پاس آتے تھے مگر یہ کسی کو خیال پیدا نہ ہوا کہ ان کا تھیلا تو پرتال کر کے دیکھے کہ ان کے پاس ہے کیا ؟ جب خوب غور اور فکر سے اُن کی تلاشی لی گئی تو آخر یہی نکلا کہ ان کے پاس بجز رفع یدین یا آمین بالجہر یا سینہ پر ہاتھ باندھنے کے اور ایسی ہی چند جز کی باتوں کے اور کچھ نہیں۔ اور وہ اسی پر زور دیتے رہے کہ مثلاً امام کے پیچھے فاتحہ ضرور پڑھنی چاہیے ۔ قطع نظر اس کے کہ اس کے معانی پر اطلاع ہو یا نہ ہو۔ محمد حسین قریباً بیس برس تک اپنے رسائل میں انہیں مسائل پر زور دیتا رہا لیکن آخر ماحصل یہی نکلا کہ اس پر گوئی میں کوئی روحانیت نہیں ہے اور آخران تیز زبانوں کی منہ زوری آئمہ اربعہ کی تحقیر و تذلیل تک منتہی ہوتی ہے۔ میری رائے میں ائمہ اربعہ ایک برکت کا نشان تھے اور ان ائمہ اربعہ برکت کا نشان تھے میں روحانیت تھی کیونکہ روحانیت تقویٰ سے شروع ہوتی ہے اور وہ لوگ در حقیقت متقی تھے اور خدا سے ڈرتے تھے اور اُن کے دِل كِلابُ الدُّنْیا سے مناسبت نہ رکھتے تھے۔ یا د رکھو یہ تقوی بڑی چیز ہے۔ خوارق کا صدور بھی تقوی ہی سے ہوتا ہے اور اگر خوارق نہ بھی