ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 243

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۳ جلد دوم نہیں ہے معاذ اللہ ۔ کیونکہ اس سلسلہ کی اتم مشابہت اور مماثلت کے لئے ضروری تھا کہ اس چودھویں صدی پر اس امت میں سے ایک مسیح پیدا ہوتا اسی طرح پر جیسے موسوی سلسلہ میں چودھویں صدی پر ایک مسیح آیا اور اسی طرح پر قرآن شریف کی اس آیت کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعة : ۴) میں ایک آنے والے احمدی بروز کی خبر دیتی ہے اور اس طرح پر قرآن شریف کی بہت سی آیتیں ہیں جن کی تکذیب لازم آئے گی بلکہ میں دعوی سے کہتا ہوں کہ الْحَمْدُ سے لے کر والناس تک سارا قرآن چھوڑنا پڑے گا پھر سوچو! کیا میری تکذیب کوئی آسان امر ہے یہ میں از خود نہیں کہتا، خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حق یہی ہے کہ جو مجھے چھوڑے گا اور میری تکذیب کرے گا وہ زبان سے نہ کرے مگر اپنے عمل سے اس نے سارے قرآن کی تکذیب کر دی اور خدا کو چھوڑ دیا۔ اس کی طرف میرے ایک الہام میں بھی اشارہ ہے اَنْتَ مِنِّي وَانَا مِنْكَ بے شک میری تکذیب سے خدا کی تکذیب لازم آتی ہے اور میرے اقرار سے خدا تعالیٰ کی تصدیق ہوتی اور اس کی ہستی پر قوی ایمان پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر میری تکذیب میری تکذیب نہیں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے اب کوئی اس سے پہلے کہ میری تکذیب اور انکار کے لئے جرأت کرے۔ ذرا اپنے دل میں سوچے اور اس سے فتوی طلب کرے کہ وہ کس کی تکذیب کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیوں تکذیب ہوتی ہے؟ اس طرح پر کہ آپ نے جو وعدہ کیا تھا کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے گا وہ معاذ اللہ جھوٹا نکلا اور پھر آپ نے جو اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ فرمایا تھا وہ بھی معاذ اللہ غلط ہوا ہے اور آپ نے جو صلیبی فتنہ کے وقت ایک مسیح و مہدی کے آنے کی بشارت دی تھی وہ بھی معاذ اللہ غلط نکلی کیونکہ فتنہ تو موجود ہو گیا مگر وہ آنے والا امام نہ آیا ۔ اب ان باتوں کو جب کوئی تسلیم کرے گا عملی طور پر کیا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ٹھہرے گا یا نہیں ؟ پس پھر میں کھول کر کہتا ہوں کہ میری تکذیب آسان امر نہیں ۔ مجھے کافر کہنے سے پہلے خود کافر بننا ہوگا۔ مجھے بے دین اور گمراہ کہنے میں دیر ہو گی مگر پہلے اپنی گمراہی اور روسیاہی کو مان لینا پڑے گا۔ مجھے قرآن اور حدیث کو چھوڑنے والا کہنے کے لئے پہلے خود قرآن اور حدیث کو چھوڑ دینا پڑے گا اور پھر بھی