ملفوظات (جلد 2) — Page 242
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۲ جلد دوم کرتے۔ کیونکہ صدی کا سر آگیا تھا اور اب تو جب کہ بیس برس گزرنے کو ہیں اور بھی زیادہ فکر کی ضرورت تھی ۔ موجودہ فسادا اپنی جگہ پر پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ کوئی شخص اس کی اصلاح کے لئے آنا چاہیے عیسائیت نے وہ آزادی اور بے قیدی پھیلائی ہے جس کی کوئی حد ہی نہیں ہے اور مسلمانوں کے بچوں پر جو اس کا اثر ہوا ہے اسے دیکھ کر تو کہنا پڑتا ہے کہ مسلمانوں کے بچے ہی نہیں ہیں ۔ ساری باتوں کو چھوڑ دو اس صلیبی فتنہ ہی کا سر الصلیب مسیح موعود کا ہی دوسرا نام ہے کی اصلاح کے لئے جو شخص آئے گا اس کا نام کیا رکھا جاوے گا ؟ یہ فتنہ بالطبع اپنی اصلاح کرنے والے کا نام کا سر الصلیب رکھتا ہے اور ا یہ مسیح موعود کا دوسرا نام ہے۔ قرآن اور حدیث نے مختلف طریقوں پر اس مضمون کو ادا کیا ہے اور آنے والے موعود کی بشارت دی ہے۔ اس کو خوب سمجھ لینا چاہئے ۔ کیونکہ جب انسان ناقص طور پر سمجھتا ہے گویا کچھ نہیں سمجھتا لیکن جب کامل غور اور فکر کے بعد ایک بات کو سمجھ لیتا ہے پھر مشکل ہوتا ہے کہ کوئی اسے گمراہ کر سکے۔ اس لئے میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ اس سوال کو حل کرنے کی خوب فکر کریں۔ یہ معمولی اور چھوٹی سی بات نہ سمجھیں بلکہ یہ ایمان کا معاملہ ہے جنت اور دوزخ کا سوال ہے۔ مسیح موعود کی تکذیب اور انکار کا نتیجہ میرا اکار میرا انکارنہں ہے بلکہ یہ اللہ اور اس موعود اور ان کا نتیجہ کے رسول صلی الہ علی ایم انکار ہے کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار ہے کیونکہ جو میری تکذیب کرتا ہے وہ میری تکذیب سے پہلے معاذ اللہ اللہ تعالیٰ کو جھوٹا ٹھہرا لیتا ہے جبکہ وہ دیکھتا ہے کہ اندرونی اور بیرونی فساد حد سے بڑھے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے باوجود وعدہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر : ۱۰) کے ان کی اصلاح کا کوئی انتظام نہ کیا ؟ جب کہ وہ اس امر پر بظاہر ایمان لاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت استخلاف میں وعدہ کیا تھا کہ موسوی سلسلہ کی طرح اس محمدی سلسلہ میں بھی خلفاء کا سلسلہ قائم کرے گا مگر اس نے معاذ اللہ اس وعدہ کو پورا نہیں کیا اور اس وقت کوئی خلیفہ اس امت میں نہیں ؟ اور نہ صرف یہاں تک ہی بلکہ اس بات سے بھی انکار کرنا پڑے گا کہ قرآن شریف نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسی قرار دیا ہے یہ بھی صحیح