ملفوظات (جلد 2) — Page 239
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۹ جلد دوم اور اکمال الدین ہوا تو اس کی دو صورتیں ہیں ۔ اول تکمیل ہدایت ۔ دوسری تکمیل اشاعت ہدایت ۔ تکمیل ہدایت من كل الوجوہ آپ کی آمد اوّل سے ہوئی اور تکمیل اشاعت ہدایت آپ کی آمد ثانی سے ہوئی کیونکہ سورہ جمعہ میں جو آخَرِينَ مِنْهُم ( الجمعة : ۴) والی آیت آپ کے فیض اور تعلیم سے ایک اور قوم کے طیار کرنے کی ہدایت کرتی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ایک بعثت اور ہے اور یہ بعثت بروزی رنگ میں ہے جو اس وقت ہورہی ہو رہی ہے ہے پس پس یہ یہ وقت و تکمیل اشاعت ہدایت کا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اشاعت کے تمام ذریعے اور سلسلے مکمل ہو رہے ہیں۔ چھاپہ خانوں کی کثرت اور آئے دن ان میں نئی باتوں کا پیدا ہونا، ڈاک خانوں ، تار برقیوں ، ریلوں، جہازوں کا اجرا اور اخبارات کی اشاعت ان سب امور نے مل ملا کر دنیا کو ایک شہر کے حکم میں کر دیا ہے۔ پس یہ ترقیاں بھی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ترقیاں ہیں کیونکہ اس سے آپ کی کامل ہدایت کے کمال کا دوسرا جز و تکمیل اشاعت ہدایت پورا ہو رہا ہے اور یہ اسی کے موافق ہے جیسے مسیح نے کہا تھا کہ میں توریت کو پورا کرنے آیا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ میرا ایک کام یہ بھی ہے کہ تکمیل اشاعت ہدایت کروں ۔ غرض یہ عیسوی مماثلت بھی ہے۔ مسیح موسوی اور مسیح محمدی میں مما ور مسیح محمدی میں مماثلت علاوہ بریں حضرت عیسی کے زمانہ میں بھی جو آفتیں پیدا ہو گئی تھیں اسی قسم کی یہاں بھی موجود ہیں ۔ اندرونی طور پر یہودیوں کی حالت بہت بگڑ گئی تھی اور تاریخ سے اس امر کی شہادت ملتی ہے کہ توریت کے احکام انہوں نے چھوڑ دیئے تھے بلکہ اس کی بجائے طالمود اور بزرگوں کی روایتوں پر زیادہ زور دیتے تھے ۔ اس وقت مسلمانوں میں بھی ایسی ہی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ کتاب اللہ کو چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کی بجائے روایتوں ، قصوں پر زور مارا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سلطنت کے لحاظ سے بھی ایک مماثلت ہے۔ اُس وقت رومی گورنمنٹ تھی اور اس وقت برٹش گورنمنٹ ہے جس کے عدل و انصاف کا عام شہرہ ہے۔ اور یہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ وہ بھی چودھویں صدی میں آئے تھے اور اس وقت بھی چودھویں صدی ہے۔