ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 238

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۸ جلد دوم اب پانچویں اور زبردست شہادت میں اور پیش کرتا ہوں اور وہ سورہ نور میں وعدہ استخلاف ہے اس میں اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحْتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور : ۵۶) ۔ اس آیت میں استخلاف کے موافق جو خلیفے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں ہوں گے وہ پہلے خلیفوں کی طرح ہوں گے ۔ اس قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ فرمایا گیا ہے جیسے فرمایا ہے اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (المزمل : ۱۶) اور آپ مثیل موسیٰ استثناء کی پیشگوئی کے موافق بھی ہیں پس اس مماثلت میں جیسے کہا کا لفظ فرمایا گیا ہے ویسے ہی سورہ نور میں کہا کا لفظ ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ موسوی سلسلہ اور محمدی سلسلہ میں مشابہت اور مماثلت تامہ ہے۔ موسوی سلسلہ کے خلفاء کا سلسلہ حضرت عیسی علیہ السلام پر آکر ختم ہو گیا تھا اور وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد چودھویں صدی میں آئے تھے اس مماثلت کے لحاظ سے کم از کم اتنا تو ضروری ہے کہ چودھویں صدی میں ایک خلیفہ اسی رنگ وقوت کا پیدا ہو جو مسیح سے مماثلت رکھتا ہو اور اس کے قلب اور قدم پر ہو۔ پس اگر اللہ تعالیٰ اس امر کی اور دوسری شہادتیں اور تائیدیں نہ بھی پیش کرتا تو یہ سلسلہ مماثلت بالطبع چاہتا تھا کہ چودھویں صدی میں عیسوی بروز آپ کی امت میں ہو ورنہ آپ کی مماثلت میں معاذ اللہ ایک نقص اور ضعف ثابت ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے نہ صرف اس مماثلت کی تصدیق اور تائید فرمائی بلکہ یہ بھی ثابت کر دکھا یا کہ مثیل موسیٰ ، موسیٰ سے اور تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل تر ہے۔ مسیح موعود کی آمد کا مقصد حضرت میں علیہ السلام جیسے اپنی کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ توریت کو پورا کرنے آئے تھے اسی طرح پر محمدی سلسلہ کا مسیح اپنی کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ قرآن شریف کے احیاء کے لیے آیا ہے اور اس تکمیل کے لئے آیا ہے جو تکمیل اشاعت ہدایت کہلاتی ہے۔ تکمیل اشاعت ہدایت کے متعلق یا د رکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو تمام نعمت