ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 236

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۶ جلد دوم پیشگوئی پوری ہوئی کیونکہ عین ضرورت کے وقت خدا کے وعدہ کے موافق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللهُ وَرَسُولُهُ - بشارت کے موافق خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا اور ، قائم کیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ صَدَقَ الله اللہ اور اس کے رسول کی باتیں سچی ہیں ظالم طبع ہے وہ انسان جو ان کی تکذیب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے اب میرا یہ دعوی کہ اس صدی پر میں تجدید دین کے لیے بھیجا گیا ہوں صاف ہے۔ میں زور سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے اور اس پر بائیس برس سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے اس قدر عرصہ تک میری تائیدوں کا ہونا یہ اللہ تعالیٰ کا الزام اور حجت ہے تم لوگوں پر کیونکہ میں نے جو مجدد ہونے کا دعوی کیا ہے کہ میں فسادوں کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہوں حدیث اور قرآن کی بنا پر کیا ہے۔ اب جو لوگ میری تکذیب کریں گے وہ میری نہیں اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کریں گے۔ ان کو کوئی حق تکذیب کا نہیں پہنچتا جب تک وہ میری جگہ دوسرا مصلح پیش نہ کریں کیونکہ زمانہ اور وقت بتاتا ہے کہ مصلح آنا چاہیے کیونکہ ہر جگہ مفاسد پیدا ہو چکے ہیں اور قرآن شریف کہتا ہے کہ ایسی آفتوں کے وقت حفاظت قرآن کے لئے مامور آتا ہے اور حدیث کہتی ہے کہ ہر صدی کے سر پر مجبد د بھیجا جاتا ہے۔ پھر ضرورتیں موجود ہیں اور یہ وعدے حفاظت اور تجدید دین کے الگ ہیں تو ان ضرورتوں اور وعدوں کے موافق آنے والے کی تکذیب کی تو دو ہی صورتیں ہیں یا کوئی اور مصلح پیش کیا جاوے یا ان وعدوں کی تکذیب کی جاوے۔ حفاظت دین کی ضرورت بعض لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ حفاظت کی کوئی ضرورت نہیں ہے وہ سخت غلطی کرتے ہیں دیکھو! جو شخص کی باغ لگاتا ہے یا عمارت بناتا ہے تو کیا اس کا فرض نہیں ہوتا یا وہ نہیں چاہتا کہ اس کی حفاظت اور دشمنوں کی دست برد سے بچانے کے لیے ہر طرح کوشش کرے؟ باغات کے گرد کیسے کیسے احاطے حفاظت کے لیے بنائے جاتے ہیں اور مکانات کو آتشزدگیوں سے بچانے کے لیے نئے نئے مصالح طیار الحکم جلدے نمبر ۱ مورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۳، ۴