ملفوظات (جلد 2) — Page 235
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۵ جلد دوم ہے کہ اندرونی طور پر وہ بدعات اور مشرکانہ رسوم ہیں اور بیرونی طور پر یہ آفتیں ۔ خصوصاً صلیبی مذہب نے جو نقصان پہنچایا ہے اسلام وہ مذہب تھا کہ اگر ایک آدمی بھی اس سے نکل جاتا اور مرتد ہو جاتا تو قیامت برپا ہو جاتی اور یا اب یہ حالت ہے کہ مرتدوں کی انتہا ہی نہیں رہی ۔ خدا تعالیٰ کی خاص تجلی کی ضرورت اب ان تمام امور کو یکجائی طورپر کوئی عقل مند سوچے اور خدا کے لئے غور کرے کہ کیا خدا کی خاص تجلی کی ضرورت نہیں ؟ کیا ابھی تک اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ حفاظت کے پورا ہونے کا وقت نہیں کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ ( الحجر : ١٠ ) ؟ اگر اس وقت اس کی مدد اور تجلی کی ضرورت نہیں تو کوئی ہمیں بتائے کہ وہ وقت کب آئے گا ۔ غور کرو اور سوچو! کہ ایک طرف تو واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس قسم کی ضرورتیں پیدا ہو گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص تجلی فرمائے اور اپنے دین کی نصرت عملی سچائیوں اور آسمانی تائیدات سے کر کے دکھاوے۔ دوسری طرف صدی نے مہر لگا دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے موافق ( جو اس کے برگزیدہ اور افضل الرسل رسول خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا کہ ہر صدی کے سر پر تجدید دین کے لیے مجدد بھیجا جاوے گا ) کوئی مجدد آنا چاہیے ۔ صدی میں سے انیس برس گزر گئے اگر اب تک باوجود ان ضرورتوں کے پیدا ہو جانے کے بھی کوئی مامور مبعوث نہیں ہوا تو پھر خدا کے لیے غور کرو کہ اس میں اسلام کا کیا باقی رہتا ہے؟ کیا اس سے إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ کے وعدہ کا خلاف ثابت نہ ہوگا ؟ کیا اس سے ارسال مجدد کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باطل نہ ہوگی؟ کیا یہ نہ پا یا جاوے گا کہ اسلام ایسا مذہب ہے کہ اس پر ایسی آفتیں آئیں اور خدا تعالیٰ کو اس کے لیے غیرت نہ آئی ؟ پیشگوئی اور بشارات کے موافق خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا اب کوئی ہمارے دعوی کو چھوڑے اور الگ رہنے دے مگر ان باتوں کا سوچ کر جواب دے۔ میری تکذیب کرو گے تو اسلام کو ہاتھ سے تمھیں دینا پڑے گا مگر میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے وعدہ کے موافق اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی