ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 232

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۲ جلد دوم رحم ضرور آتا ہے کہ نادان اپنی نادانی سے خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکا تا ہے۔ شخص ہر صدی کے سر پر مجدد کا ظہور یہ بات مسلمانوںمیں ہرفن جانتا ہے اور غالب کی کبھی اس سے بے خبری نہ ہوگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد کو بھیجتا ہے جو دین کے اُس حصہ کو تازہ کرتا ہے جس پر کوئی آفت آئی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ مجدّدوں کے بھیجنے کا اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے موافق ہے جو اس نے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحٰفِظُونَ ( الحجر : ۱۰) میں فرمایا ہے پس اس وعدہ کے موافق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کے موافق جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے وحی پا کر فرمائی تھی یہ ضروری ہوا کہ اس صدی کے سر پر جس میں سے انیس برس گزر گئے کوئی مجدد اصلاح دین اور تجدید ملت کے لئے مبعوث ہوتا اس سے پہلے کہ کوئی خدا تعالیٰ کا مامور اس کے الہام و وحی سے مطلع ہو کر اپنے آپ کو ظاہر کرتا مستعد اور سعید فطرتوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ صدی کا سر آجانے پر نہایت اضطراب اور بے قراری کے ساتھ اس مرد آسمانی کی تلاش کرتے اور اس آواز کے سننے کے لئے ہمہ تن گوش ہو جاتے جو انہیں یہ مژدہ سناتی کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ کے موافق آیا ہوں ۔ یہ سچ ہے کہ چودھویں صدی پر ا کا برانِ امت کی نظریں لگی ہوئی چودھویں صدی کا مجدد تھیں اور تمام کشوف اور رڈیا اور الہامات اس امر کی طرف ایما کرتے تھے کہ اس صدی پر آنے والا موعود عظیم الشان انسان ہو گا جس کا نام احادیث میں مسیح موعود اور مہدی آیا ہے مگر میں کہوں گا کہ جب وہ وقت آگیا اور آنے والا آگیا تو بہت تھوڑے وہ لوگ نکلے جنہوں نے اس کی آواز کو سنا غرض یہ بات کوئی نرالی اور نئی نہیں ہے کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد آتا ہے پس اس وعدہ کے موافق ضروری تھا کہ اس صدی میں بھی جو انیس سال تک گذر چکی ہے مجدد آئے۔ اب اس دوسرے پہلو کو دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا اس وقت اسلام کے لئے کوئی آفات اور مشکلات ایسی پیدا ہوگئی ہیں جو کسی مامور کے لئے داعی ہیں جب ہم اس پہلو پر غور کرتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا