ملفوظات (جلد 2) — Page 231
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۱ جلد دوم دعا کرو تا کہ دعا میں جوش پیدا ہو۔ الفاظ پرست مخذول ہوتا ہے۔ حقیقت پرست بننا چاہیے۔ مسنون دعاؤں کو بھی برکت کے لئے پڑھنا چاہیے مگر حقیقت کو پاؤ۔ ہاں جس کو زبان عربی سے موافقت اور فہم ہو وہ عربی میں پڑھے۔ حقہ نوشی کے متعلق ذکر آیا۔ فرمایا۔ حقہ نوشی اس کا ترک اچھا ہے۔ ایک بدعت ہے۔ منہ سے بو آتی ہے۔ ہمارے والد صاحب مرحوم اس کے متعلق ایک شعر اپنا بنایا ہوا پڑھا کرتے تھے جس سے اس کی برائی ظاہر ہوتی ہے۔' ۳۱ اگست ۱۹۰۱ء ۳۱ اگست ۱۹۰۱ء کو جناب با بو غلام مصطفیٰ صاحب میونسپل کمشنر وزیر آباد، قادیان دارالامان آئے تھے اس تقریب پر حضرت حجتہ اللہ علی الارض علیہ السلام نے بطور تبلیغ مندرجہ ذیل تقریر فرمائی ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان کسی نئی بات سنتے ہی اس کی مخالفت نہ کریں بہت کو خالی الذہن ہوکر نہیں سوچتا اورتمام بات پہلوؤں پر توجہ نہیں کرتا اور غور سے نہیں سنتا اس وقت تک پرانے خیالات نہیں چھوڑ سکتا اس لئے جب آدمی کسی نئی بات کو سنے تو اسے یہ نہیں چاہیے کہ سنتے ہی اس کی مخالفت کے لئے طیار ہو جاوے بلکہ اس کا فرض ہے کہ اس کے سارے پہلوؤں پر پورا فکر کرے اور انصاف اور دیانت اور سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر تنہائی میں اس پر سوچے ۔ میں جو کچھ اس وقت کہنا چاہتا ہوں وہ کوئی معمولی اور سرسری نگاہ سے دیکھنے کے قابل بات نہیں بلکہ بہت بڑی اور عظیم الشان بات ہے میری اپنی بنائی ہوئی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی بات ہے اس لئے جو اس کی تکذیب کے لئے جرات اور دلیری کرتا ہے وہ میری تکذیب نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب پر دلیر ہوتا ہے۔ مجھے اس کی تکذیب سے کوئی رنج نہیں ہو سکتا البتہ اس پر الحکم جلد ۵ نمبر ۳۳ مورخه ۱۰ استمبر ۱۹۰۱ صفحه ۹