ملفوظات (جلد 2) — Page 205
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۵ جلد دوم آنکس که بقرآن و خیر زو نرہی این است جوابش که جوابش ندهی مہدی حسن ۔ میں شعر کو برا سمجھتا ہوں ۔ حضرت اقدس ۔ یہ آپ کی غلطی ہے۔ - ہر شعر ایسا نہیں ہوتا کہ اسے برا سمجھا جاوے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی شعر پڑھ لیا کرتے تھے۔ صحابہ شعر پڑھا کرتے۔ تھے۔ مہدی حسن ۔ قرآن شریف شعراء کی مذمت کرتا ۔ الشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوْنَ (الشعراء:۲۲۵) حضرت اقدس میں پھر کہتا ہوں کہ یہاں ہر ایک شاعر کی مذمت نہیں کی گئی اس پر ال بھی ہے اس پر غور کرو۔ خبیث شعراء سے مراد ہے۔ وفات مسیح کا مسئلہ تو ایسا صاف ہے کہ اس پر وہی شخص حجت اور انکار کرے گا جس کو خدا کا خوف نہیں یا بد قسمتی سے اسے غور اور فکر کی قوت نہیں ملی ۔ اور ساری باتوں کو چھوڑ کر ہم صحابہ ہی کے ۔ اجماع کو لیتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ہوا۔ یہ عام طور پر مسلمانوں میں مانی ہوئی بات ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرط محبت سے اور اس صدمہ کی برداشت کی تاب نہ لا کر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال سے پیش آیا اپنی تلوار کھینچ لی اور کہا کہ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مردہ کہے گا تو میں اسے قتل کر دوں گا ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جوش دیکھا تو وہ اُٹھے اور انہوں نے خطبہ پڑھا اور یہ آیت سنائی مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران : (۱۴۵) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک رسول ہیں اور آپ سے پیشتر جس قدر رسول آئے وہ سب کے سب مر گئے ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو اپنی تلوار میان میں کر لی اور کہا کہ یہ آیت گویا آج