ملفوظات (جلد 2) — Page 204
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۴ جلد دوم الزام لگاتے ہیں کہ آپ نے قرآن کے خلاف کہا۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ اپنا اعتبار کھوتے ہیں ۔ آپ جو بار بار کہتے ہیں کہ میں نے کتابیں پڑھی ہیں یہ مسئلہ آپ نے کس کتاب میں دیکھا ہے۔ سائل۔ میں آپ کو رنج دلانے کے لئے نہیں آیا۔ حضرت اقدس رنج کیا ! مجھے تو رنج آہی نہیں سکتا ۔ میرا تو یہ کام ہے کہ خدا تعالیٰ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچادوں اور ہر پوچھنے والے کو جواب دوں۔ مجھے رنج نہیں آتا۔ آپ پر رحم آتا ہے کہ آپ دانستہ ایک امر کو چھوڑتے ہیں۔ میں اپنے دعوی کو قرآن کی بنا پر بیان کرتا ہوں حالانکہ مقدم قرآن ہی ہے آپ حدیث کے ایک لفظ پر اڑتے ہیں جس کے معنے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کر دیئے ہیں إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ - پھر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا حدیثوں میں اختلاف نہیں۔ شیعوں اور سنیوں کی جدا جدا حدیثیں نہیں ہیں اور مقلدوں اور غیر مقلدوں کی حدیثیں الگ الگ نہیں ہیں ۔ پھر آپ حدیث کے رو سے کیا فیصلہ کر سکیں گے۔ قرآن کو نہ چھوڑو۔ قرآن کو مقدم کرو۔ میرے دعاوی کا ثبوت قرآن میں موجود ہے۔ اگر قرآن کو چھوڑ کر آپ اور طرف جانا چاہیں آپ کا اختیار ہے۔ حدیث صحیح سے بھی میرا ہی دعوی ثابت ہوتا ہے۔ آپ کو تو وہاں بھی کچھ نہیں مل سکتا۔ سائل۔ مقلدوں کو حسد نہیں ہے سب ایک ہیں ۔ حضرت اقدس ۔ اگر مقلدوں کو باہم حسد نہیں ہے اور باہم سب ایک ہیں تو پھر مکے میں چار مصلے نہ ہوتے۔ مہدی حسن ۔ اب ہم نہیں پوچھتے ۔ حضرت اقدس ۔ پھر ہم تو نہیں تھکتے ۔ آپ جس قدر سوال چاہیں کریں ۔ جواب دینے کو طیار ہیں ۔ قرآن شریف اور حدیث کے رو سے میں نے اپنے دعاوی کو کھول کر بیان کر دیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اب بجر سعدی کے اس شعر کے اور کچھ باقی نہیں رہا۔