ملفوظات (جلد 2) — Page 188
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۸ جلد دوم میری نصف جائیداد کا شریک کیا گیا تھا۔ اب وہ اسی میں اپنی مصلحت دیکھتا ہے کہ تائی کے ساتھ موافقت رکھے۔ یہ اشتہار جو مدعا علیہ دکھاتا ہے مطبوعہ ۲ رمئی ۱۸۹۱ ء میرا ہے۔ زنان خانہ کا چاہ مردانہ کی ضرورتوں کے لئے ہرگز کافی نہیں ہے۔ وہ صرف زنان خانہ کی سہولت کے لئے بنایا گیا ہے۔ امام الدین کے چاہ سے ہمار استہ بغیر ہمارے علم کے پانی لاتا ہوگا کھلے طور پر ہم وہاں سے پانی نہیں لے سکتے کیونکہ دشنام دہی ہوتی ہے۔ جب سے دیوار بنی ہے تب سے زیادہ روک دیا ہے۔ دیوار جدید بنائے جانے کے بعد تجویز تعمیر چاہ جدید کی ہوئی۔ پانچ چھ ماہ ہوئے کہ چاہ جدید کا پانی استعمال میں آیا ہے۔ اس سے پہلے بڑی مسجد میں بھی پانی لینے جاتے تھے۔ جس جگہ چاہ جدید بنا ہے وہ احاطہ ہے۔ چھاپہ خانہ اور بورڈنگ ہوس بھی اسی احاطہ میں ہے۔ مدرسہ اور بورڈنگ ہوس میں ڈیڑھ سو آدمی ہوتا ہوگا اور دس پندرہ ملازم چھا پہ خانہ کے اور کبھی ستر کبھی اُتنی کبھی سو مہمان روزانہ اور مجمع میں جو سال میں تین چار مرتبہ ہوتا ہے تین سو یا چار سو یا پانسو مہمان بھی آجاتے ہیں ۔ بورڈنگ ہوس تین یا چار سال سے بنا ہے جس کا مجھے علم ہے۔ لڑکوں اور مسافروں کے لئے پانی بھرنے کا سامان موجود ہے۔ بورڈ نگ ہوس کا سقہ کوئی خاص نہیں۔ بورڈنگ ہوس کے کئی ملازم ہیں وہ گھڑا صراحی وغیرہ برتن بھر لیتے ہیں۔ میں یقینا نہیں کہہ سکتا اگر دور سے پانی لانا پڑے تو خرچ زیادہ پڑے۔ گول کمرہ میں نے بنایا ہے میرے بھائی نے نہیں بنایا۔ میں نے خود بحیات برادر خود بنایا ہے جب کہ وہ سخت بیمار تھے اور اس مرض میں کہ اس سے جاں بر نہ ہو سکتے تھے گول کمرہ کے سامنے چار دیواری چار برس سے بنائی گئی تھی۔ تخمینا ڈیڑھ سال ہوا چھوٹے بوہڑ والا مکان بنایا تھا چھ سات ماہ پہلے وہی بوہڑ والا مکان بنانا چاہا تھا ۔ امام الدین بلوہ کرنے کے لئے آگیا چونکہ ہم احتیاط کیا کرتے ہیں ہم نے چھوڑ دیا۔ دوسری مرتبہ پھر ہم نے ارادہ تعمیر کا کیا کہ پھر مدعا علیہ بلوہ کرنے آگیا پھر چھوڑ دیا۔ پھر تیسری مرتبہ ہم کو معلوم ہوا کہ مدعا علیہم کا منشا صرف شرارت کا تھا دراصل مکان میں ان کا کوئی حق نہ تھا۔ عورتوں نے کہا میں نے سنا ہے انہوں نے چھوڑ دیا، فساد سے باز آگئے اور کہیں چلے گئے اس واسطہ ہم نے مکان بنالیا۔ پولیس والا آدمی آیا تھا ہم نے کہا کہ ہمارا ارادہ بلوہ کرنے کا نہیں