ملفوظات (جلد 2) — Page 187
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۷ جلد دوم خدا تعالیٰ اپنی حکمتوں سے خوب واقف ہے۔ پھر آپ نے چند نصیحتیں کئی پیرایوں میں تقوی وطہارت اختیار کرنے اور برائیوں سے بچنے اور صدق اور راستی کے قبول کرنے کی نسبت بیان فرمائیں۔ لے اللہ تعالیٰ حاضر ہے میں سچ کہوں بیان حضرت اقدس امام همام علیہ الصلوۃ والسلام گا۔ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہے مرزاغلام جیلانی ہمارے جدیوں میں سے تھا۔ اب تو اس کا کوئی گھر نہیں ۔ دوران مقدمہ ہذا میں مجھے معلوم ہوا کہ غلام جیلانی نے امام الدین اور میرے والد صاحب پر مقدمہ کیا تھا۔ پہلے صرف امام الدین کا نام تھا پھر مرمت سوال سے میرے والد صاحب کا نام بھی لکھا گیا۔ یہ بات ہمارے مختاروں نے جنہوں نے اب مثل دیکھی ہے بتائی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ اس مثل میں کوئی نقشہ بھی ہے۔ ایک چاہ پرانا ہے جو سلطان احمد پسرم کے مکان کے دروازہ کے آگے ہے۔ چھ سات سال سے میں نے ایک چاہ اپنے زنان خانہ میں سہولت زنان خانہ کے لئے بنایا ہے۔ سقہ بہت سا پانی نہیں دے سکتا۔ اس وقت بھی اندر زنان خانہ میں پچاس ساٹھ عورتیں ہیں جو چاہ متصل دروازہ مکان سلطان احمد کے ہے عرصہ سے ہمارے مصرف میں نہیں آتا۔ ہمارے آدمی پانی لینے جاویں تو سلطان احمد کے آدمی روکتے ہیں۔ سلطان احمد کا خاص کوئی آدمی نہیں ہے اس کی پہلی بیوی مر گئی ہے۔ اب امام الدین مدعا علیہ کی بیٹی اس کی بیوی ہے اور امام الدین کی بہن سلطان احمد کی تائی ہے جو میرے بھائی مرز اغلام قادر مرحوم کی بیوی ہے، روکنے والی وہی امام الدین کی بہن سلطان احمد کی تائی ہے۔ وہ بسازش امام الدین روکتی ہے۔ میں نے اپنے کانوں سے ممانعت سنی ہے۔ میں نے خود امام الدین کی ہمشیرہ کی زبانی سنا ہے کہ یہ لوگ میرے بھائی امام الدین و نظام الدین کے دشمن ہیں اور میرا رشتہ بھائیوں سے ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ یہ اس چاہ سے پانی بھریں۔ ان کو روک دو۔ میں نے اس کو بہت دفعہ کہتے سنا ہے۔ سلطان احمد مجھ سے مخالفت رکھتا ہے ۔ ایک وجہ مخالفت کی یہ ہے کہ وہ مرزا غلام قادر کا متنبی بنایا گیا تھا اور الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ صفحہ ۱۱، ۱۲