ملفوظات (جلد 2) — Page 117
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۷ جلد دوم ایک پیسہ پڑا ہوا ہو تو جھک کر اس کو اُٹھا لے گا حالانکہ تھوڑے سے اعلان سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ پیسہ کس کا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بارہ بارہ آنہ پر معصوم بچوں کی جانیں لی جاتی ہیں ۔ عدالتوں میں جا کر دیکھو کس قدر خوفناک اور تاریک نظارہ نظر آئے گا۔ تھوڑی تھوڑی بات پر جھوٹ بولا جاتا ہے۔ فسق و فجور کا ایک دریا بہہ رہا ہے۔ یہ کیوں؟ صرف اس لیے کہ خدا پر ایمان نہیں ہے۔ سانپوں اور زہروں سے ڈرتے ہیں۔ اس لیے کہ اُن کو مہلک مانتے ہیں اور اُن کے خطرناک ہونے پر ایمان ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل ہو تو میں نہیں سمجھتا کہ کیوں گناہ سے نفرت پیدا نہ ہو۔ نیکی کے دو پہلو انسان کے لئے دو باتیں ضروری ہیں۔ بدی سے بچے اور نیکی کی طرف دوڑے۔ اور نیکی کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔ ایک ترک شہر دوسرا افاضہ خیر ۔ ترک شر سے انسان کامل نہیں بن سکتا جب تک اس کے ساتھ افاضہ خیر نہ ہو یعنی دوسروں کو نفع بھی پہنچائے ۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ کس قدر تبدیلی کی ہے اور یہ مدارج تب حاصل ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات پر ایمان ہو اور اُن کا علم ہو۔ جب تک یہ بات نہ ہو انسان بدیوں سے بھی بچ نہیں سکتا دوسروں کو نفع پہنچانا تو بڑی بات ہے۔ بادشاہوں کے رُعب اور تعزیرات ہند سے بھی تو ایک حد تک ڈرتے ہیں اور بہت سے لوگ ہیں جو قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے پھر کیوں أَحْكَمُ الْحَاكِمِين کے قوانین کی خلاف ورزی میں دلیری پیدا ہوتی ہے۔ کیا اس کی کوئی اور وجہ ہے بجز اس کے کہ اس پر ایمان نہیں ہے؟ یہی ایک باعث ہے۔ الغرض بدیوں سے ۔ بچنے کا مرحلہ تب طے ہوتا ۔ ہوتا ہے جب خدا پر ایمان ہو۔ پھر د ۔ پھر دوسرا مرحلہ یہ ہونا چاہیے کہ ان راہوں کی تلاش کرے جو خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں نے اختیار کیں ۔ وہ ایک ہی راہ ہے جس پر جس قدر راستباز اور برگزیدہ انسان دنیا میں چل کر خدا تعالیٰ کے فیض سے فیضیاب ہوئے۔ اس راہ کا پتہ یوں لگتا ہے کہ انسان معلوم کرے کہ خدا تعالیٰ نے اُن کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ پہلا مرحلہ بدیوں سے بچنے کا تو خدا تعالیٰ کی جلالی صفات کی تجلی سے حاصل ہوتا ہے کہ وہ بدکاروں کا دشمن ہے۔ اور دوسرا مرتبہ خدا تعالیٰ کی جمالی تجلی سے ملتا ہے اور آخر یہی ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف