ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 116

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۶ جلد دوم کہیں بھی تو تکلفات سے کہیں گے، مگر ہو نہیں سکتا ۔ ہم یہی تو چاہتے ہیں کہ اس حقیقی خدا کو شناخت کیا جاوے اور باقی سب تکلفات چھوڑ دیئے جائیں اس کا نام فطرت کی درستی ہے۔ اسلام ہے کیا ؟ اسلام کا تو نام ہی اللہ تعالیٰ نے فطرت اللہ رکھا ہے۔ اسلام دین فطرت ہے فطرتی مذہب اسلام ہی ہے۔ مگران باتوں کی حقیقت کب کھلتی ہے؟ جب انسان صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ کسی پاک صحبت میں رہے۔ ثابت قدمی میں بڑی برکتیں ہوتی ہیں۔ شہد ہی کی مکھی کو دیکھو کہ جب وہ ثابت قدمی اور محنت کے ساتھ اپنے کام میں لگتی ہے تو شہد جیسی نفیس اور کارآمد شے طیار کر لیتی ہے۔ اسی طرح پر جو خدا کی تلاش میں استقلال سے لگتا ہے وہ اس کو پالیتا ہے۔ نہ صرف پالیتا ہے بلکہ میرا تو یہ ایمان ہے کہ وہ اُس کو دیکھ لیتا ہے۔ ارضی علوم کی تحصیل میں کس قدر وقت اور روپیہ صرف کرنا پڑتا ہے۔ یہ علوم روحانی علوم کی تحصیل کے قواعد کو صاف طور پر بتا رہے ہیں ۔ ہمارا مذہب جو روحانی علوم کے مبتدی کے لئے ہونا چاہیے یہ ہے کہ وہ پہلے خدا کی ہستی پھر اس کی صفات کی واقفیت پیدا کرے ایسی واقفیت جو یقین کے درجہ تک پہنچ جاوے۔ تب اللہ تعالیٰ کی ذات اور اُس کی صفات کاملہ پر اس کو اطلاع مل جاوے گی اور اس کی روح اندر سے بول اُٹھے گی کہ پورے اطمینان کے ساتھ اُس نے خدا کو پالیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی ہستی پر ایسا ایمان پیدا ہو جاوے کہ وہ یقین کے درجہ تک پہنچ جاوے اور انسان محسوس کر لے کہ اس نے گویا خدا کو دیکھ لیا ہے اور اس کی صفات سے واقفیت ہو جاوے تو گناہ سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور طبیعت جو پہلے گناہ کی طرف جھکتی تھی اب ادھر سے ہٹتی اور نفرت کرتی ہے اور یہی تو بہ ہے۔ اور یہ بات کہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان کے بعد طبیعت گناہ سے متنفر ہو جاتی ہے یہ بات آسانی اور صفائی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ دیکھو ! سنکھیا ہے یا اور زہریں ہیں یا بعض زہر یلے جانور ہیں انسان اُن سے کیوں ڈرتا ہے؟ صرف اس لیے کہ تجربہ نے بتا دیا ہے کہ اس درجہ پر یہ زہر ہلاک کر دیتے ہیں۔ بہتوں کو زہر کھا کر ہلاک ہوتے دیکھا ہے اسی لیے طبیعت اس طرف جا نہیں سکتی بلکہ ڈرتی ہے۔ جب کہ یہ بات ہے پھر کیا وجہ ہے کہ قسم قسم کے گناہ سرزد ہوتے ہیں یہاں تک کہ اگر راستہ میں