ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 110

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۰۱۱ جلد دوم ہے۔ دہریت کا پہلا زینہ یہی ہے۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ یا تو بڑے بڑے دعوے اور خواہشیں پیش کرتے ہیں کہ یہ ہو جائیں اور وہ بن جائیں اور یا پھر آخر ارزل زندگی کو قبول کر لیتے ہیں۔ ایک شخص میرے پاس کچھ مانگنے آیا۔ جو گی تھا۔ اس نے کہا کہ میں فلاں جگہ گیا۔ فلاں مرد کے پاس گیا۔ آخر اس کی حالت اور انداز گفتگو سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ مانگ کر گزارہ کر لینا چاہیے۔ اصل اور سچی بات یہی ہے کہ صبر سے کام لیا جائے ۔ سعدی نے کیا خوب کہا ہے۔ ه گر نباشد به دوست راه بردن شرط عشق است در طلب مردن اللہ تعالیٰ تو اخیر حد تک دیکھتا ہے۔ جس کو کچا اور غدار دیکھتا ہے وہ اس کی جناب میں راہ نہیں پاسکتا۔ ه طلب گار باید صبور و حمول که نشنیده ام کیمیا گر ملول کیمیا گر باوجود یکہ جانتا ہے کہ اب تک کچھ بھی نہیں ہوا لیکن پھر بھی صبر کے ساتھ اس پھونکا پھانکی میں لگا ہی رہتا ہے۔ میرا مطلب اس سے یہی ہے کہ اول صبر کی ضرورت ہے جس کے ساتھ اگر رشد کا مادہ ہے تو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔ اصل غرض تو یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے محبت پیدا ہو۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ محبت تو ایک دوسرا درجہ ہے یا نتیجہ ہے۔ سب سے اول تو ضروری یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ یا کے وجود پر بھی یقین پیدا ہو۔ اس کے بعد روح میں خود ایک جذب پیدا ہو جاتا ہے جو خود بخود اللہ تعالیٰ کی طرف کبھی چلی آتی ہے۔ جس جس قدر معرفت اور بصیرت بڑھے گی اسی قدر لذت اور ضرور بڑھتا جائے گا۔ معرفت کے بغیر تو کبھی لذت پیدا نہیں ہو سکتی ۔ ذوق شوق کا اصل مبدا تو معرفت ہی ہے۔ معرفت ہی ایک شے ہے جس سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ معرفت اور محبت کے اجتماع معرفت سے سے جو نتیجہ پیدا ہوتا ہے وہ سرور ہوتا ہے۔ یاد رکھو کہ کسی خوبصورتی کا محض دیکھ لینا ہی ا نہیں کر سکتا جب تک اس کے متعلق معرفت نہ ہو۔ یقینا سمجھو کہ محبت بدوں معرفت کے محال ہے۔ جو محبوب ہے اس کی معرفت کے بغیر محبت کیا ؟ یہ ایک خیالی بات ہے۔ بہت سے لوگ