ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 109

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۹ جلد دوم بھٹی پر چڑھاتا ہے کبھی اس کو صابن لگاتا ہے۔ پھر اس کی میل کچیل کو مختلف تدبیروں سے نکالتا ہے۔ آخر وہ صاف ہو کر سفید نکل آتا ہے اور جس قدر میل اس کے اندر ہوتی ہے سب نکل جاتی ہے۔ جب ادنی ادنی چیزوں کے لیے اس قدر صبر سے کام لینا پڑتا ہے تو پھر کس قدر نادان ہے وہ شخص جو اپنی زندگی کی اصلاح کے واسطے اور دل کی غلاظتوں اور گندگیوں کو دور کرنے کے لئے یہ خواہش کرے کہ یہ پھونک مارنے سے نکل جائیں اور قلب صاف ہو جائے ۔ یا درکھو! اصلاح کے لئے صبر شرط ہے۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ تزکیہ اخلاق اور نفس کا نہیں ہو سکتا جب تک کہ کسی مز کی نفس انسان کی صحبت میں نہ رہے۔ اول دروازہ جو کھلتا ہے وہ گندگی دور ہونے سے کھلتا ہے۔ جن پلید چیزوں کو مناسبت ہوتی ہے وہ اندر رہتی ہیں۔ لیکن جب کوئی تریاقی صحبت مل جاتی ہے تو اندرونی پلیدی رفتہ رفتہ دور ہونی شروع ہوتی ہے کیونکہ پاکیزہ روح کے ساتھ جس کو قرآن کریم اور اسلام کی اصطلاح میں روح القدس کہتے ہیں اس کے ساتھ تعلق نہیں ہو سکتا جب تک کہ مناسبت نہ ہو۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تعلق کب تک پیدا ہو جاتا ہے۔ ہاں ! خاک شو پیش از انکہ خاک شوی پر عمل ہونا چاہیے۔ اپنے آپ کو اس راہ میں خاک کر دے اور پورے صبر اور استقلال کے ساتھ اس راہ میں چلے ۔ آخر اللہ تعالیٰ اس کی سچی محنت کو ضائع نہیں کرے گا۔ اور اس کو وہ نور اور روشنی عطا کرے گا جس کا وہ جو یا ہوتا ہے۔ میں تو حیران ہو جاتا ہوں اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ انسان کیوں دلیری کرتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ خدا ہے۔ مجاہدہ میں نے جس شخص کا ذکر کیا ہے کہ اس نے مجھ سے کہا کہ پہلے بزرگ پھونک مار کر غوث و قطب بنا دیتے تھے میں نے اس کو یہی کہا کہ یہ درست نہیں ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا قانون نہیں ہے۔ تم مجاہدہ کرو۔ تب اللہ تعالیٰ اپنی راہیں تم پر کھولے گا ۔ اس نے کچھ توجہ نہ کی اور چلا گیا۔ ایک مدت کے بعد وہ پھر میرے پاس آیا تو اس کو اس پہلی حالت سے بھی ابتر پایا۔ غرض انسان کی بد قسمتی یہی ہے کہ وہ جلدی کا قانون تجویز کر لیتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ جلدی کچھ نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں تو تدریج اور ترتیب ہے تو گھبرا اُٹھتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دہر یہ ہو جاتا