ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 106

ملفوظات حضرت مسیح موعود مارچ ۱۹۰۱ء ١٠٦ جلد دوم مسیح ایک متلافی حق کا حضرت اقدس کی خدمت میں آنا چند روز سے حضور کی موجود کی خدمت میں ایک حق جو ضلع گجرات سے آیا ہوا ہے ۔ اس نے عرض کی کہ مجھے ابتدا ہی سے دھرم بھاؤ اپنے اندر محسوس ہوتا تھا اور اُس کے موافق میں اپنے خیال میں بعض نیکیاں بھی کرتا رہا ہوں مگر مجھے دنیا اور اس کے طلبگاروں کو اپنے ارد گرد دیکھ کر بہت بڑی تکلیف محسوس ہوتی ہے اور اپنے اندر بھی ایک کشمکش پاتا ہوں ۔ میں ایک بار دریائے جہلم کے کنارے کنارے میں پھر رہا تھا کہ مجھے ایک عجیب نظارہ پریم ( محبت ) کا تھا مجھے ایک لذت اور سرور محسوس ہوتا تھا۔ جس طرف نظر اُٹھاتا تھا آنند ہی آنند ملتا تھا۔ کھانے میں، پینے میں ، چلنے میں ، پھرنے میں ، غرض ہر ایک حرکت میں ، ہر ادا میں پریم ہی پریم معلوم ہوتا تھا، چند گھنٹوں کے بعد یہ ہ نظارہ تو جاتا رہا مگر اس کا بقیہ ضرور دو ماہ تک رہا۔ د ماہ تک رہا۔ یعنی اس نظارہ سے کم درجہ کا سرور دینے والا نظارہ۔ اس وقت میں عجیب گھبراہٹ میں ہوں ۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میں اس کو پھر پاؤں مگر نہیں ملا۔ اسی کی طلب اور تلاش میں میں لاہور بابوا بناش چندر فور مدار صاحب کے پاس آیا جو برہم سماج کے سرگرم ممبر ہیں ۔ مگر افسوس ہے کہ وہ مجھ سے بجز چند منٹ کے اور وہ بھی اپنے دفتر میں ہی نہ مل سکے۔ پھر میں پنڈت شو نرائن ستیا نند اگنی ہوتری کے پاس گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ لوگ کسی قدر روحانیت کو محسوس کرتے ہیں ۔ آخر میں کوئی دو مہینے تک ان کے ہائی سکول موگا میں بطور تھرڈ ماسٹر کام کرتا رہا اور اپنی اصلاح میں لگا رہا۔ وہاں جانا میرا صرف اس مطلب کے لئے تھا کہ میں اپنی لائف کو بناؤں ۔ اس عرصہ میں کچھ مختصر سا نظارہ نظر آنے لگا مگر میری تسلی اور اطمینان نہیں ہوا۔ جس شانتی اور پریم کا میں خواہش مند اور جو یا تھا وہ مجھے نہ ملا ۔ اگر چہ میں صبر کے ساتھ وہاں رہنا چاہتا تھا مگر بیمار ہو کر مجھے آنا پڑا۔ میں نے اپنے شہر میں شیخ مولا بخش صاحب کو ایک مرتبہ جلسہ اعظم مذاہب والا آپ کا مضمون پڑھتے ہوئے سنا۔ میں اپنے خیال میں مست اور متفکر جا رہا تھا کہ اُن کی آواز