ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 102

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۲ جلد دوم دوسرے : سے نکتہ کا نقیض نہیں ہوتا مگر زود رنج ، کینہ پرور اور غصہ والی طبائع کے ساتھ قرآن شریف کی مناسبت نہیں ہے اور نہ ایسوں پر قرآن شریف کھلتا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اس قسم کی تفسیر بنادوں ۔ نرا فہم اور اعتقاد نجات کے واسطے کافی نہیں جب تک کہ وہ عملی طور پر ظہور میں نہ آوے۔ عمل کے سوا کوئی قول جان نہیں رکھتا۔ قرآن شریف پر ایسا ایمان ہونا چاہیے کہ یہ در حقیقت معجزہ ہے اور خدا کے ساتھ ایسا تعلق ہو کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔ جب تک لوگوں میں یہ بات پیدا نہ ہو جائے ، گویا جماعت نہیں بنی۔ اگر کسی سے کوئی ایسی غلطی ہو کہ وہ صرف ایک غلط خیال کی وجہ سے ایک امر میں ہماری مخالفت کرتا ہے تو ہم ایسے نہیں ہیں کہ ہم اس پر ناراض ہو جائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ کمزوروں پر رحم کرنا چاہیے۔ ایک بچہ اگر بستر پر پاخانہ پھر دے اور ماں غصہ میں آ کر اس کو پھینک دے تو وہ خون کرتی ہے۔ ماں اگر بچہ کے ساتھ ناراض ہونے لگے اور ہر روز اس سے روٹھنے لگے تو کام کب بنے۔ وہ جانتی ہے کہ یہ ہنوز نادان ہے۔ رفتہ رفتہ خدا اس کو عقل دے گا اور کوئی وقت آتا ہے کہ یہ سمجھ لے گا کہ ایسا کرنا نا مناسب ہے۔ سو ہم ناراض کیوں ہوں ۔ اگر ہم کذب پر ہیں تو خود ہمارا کذب ہمیں ہلاک کرنے کے واسطے کافی ہے۔ ہم اس راہ پر قدم مارنے رنے وا۔ والے سب سے ۔ پہلے نہیں ہیں جو ہم گھبرا جائیں کہ شاید حق والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا کیا معاملہ ہوا کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سنت اللہ کیا ہے۔ سرور انبیاء پر کروڑوں اعتراض ہوئے ۔ ہم پر تو اتنے ابھی نہیں ہوئے۔ بعض کہتے ہیں کہ جنگ اُحد میں آپ کو ۷۰ تلواریں لگی تھیں ۔ صدق کا بیج ضائع نہیں ہوتا۔ ابوبکری طبیعت تو کوئی ہوتی ہے کہ فورا مان لے۔ طبائع مختلف ہوتی ہیں مگر نشان کے ساتھ کوئی ہدایت پا نہیں سکتا۔ سکینت باطنی آسمان سے نازل ہوتی ہے۔ تصرفات باطنی یک دفعہ تبدیلی پیدا کر دیتے ہیں ۔ پھر انسان ہدایت پاتا ہے۔ ہدایت امر ربی ہے۔ اس میں کسی کو دخل نہیں۔ میرے قابو میں ہو تو میں سب کو قطب اور ابدال بنا دوں مگر یہ امر محض خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ہاں دعا کی جاتی ہے۔ صلح کی دعوت ہی طیار ہیں کہ ہمارے مخالف ہمارے ساتھ صلح کرلیں۔ میرے پاس ایک تھیلہ ان کی گالیوں سے بھرے ہوئے کاغذات کا پڑا ہے۔ ایک نیا کا غذ آیا