ملفوظات (جلد 2) — Page 95
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶ فروری ۱۹۰۱ء ۹۵ جلد دوم اس بات کا ذکر آیا کہ جو شخص جماعت کے اندر رکوع میں آکر شامل ہو اس کی فاتحہ خلف الامام رکعت ہوتی ہے یا نہیں۔ حضرت اقدس نے دوسرے مولویوں کی رائے دریافت کی۔ مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب اس امر کے متعلق بیان کیے گئے ۔ آخر حضرت نے فیصلہ دیا اور فرمایا۔ ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ لَا صَلوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَاب ۔ آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو ہر حالت میں اس کو چاہیے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے مگر امام کو نہ چاہیے کہ جلدی جلدی سورۃ فاتحہ پڑھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تا کہ مقتدی سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔ بہر حال مقتدی کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔ سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے کیونکہ وہ اُمّ الکتاب ہے۔ لیکن جو شخص با وجودا اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کے لئے کرتا ہے آخر رکوع میں ہی آکر ملا ہے اور اس سے پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہوگئی اگر چہ اس نے سورۃ فاتحہ اس میں نہیں پڑھی ۔ کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے رکوع کو پالیا اس کی رکعت ہو گئی ۔ مسائل دو طبقات کے ہوتے ہیں ۔ ایک جگہ تو حضرت رسول کریم نے فرمایا اور تاکید کی کہ نماز میں سورۃ فاتحہ ضرور پڑھیں ۔ وہ اُمّ الکتاب ہے اور اصل نماز وہی ہے مگر جو شخص با وجود اپنی کوشش کے اور اپنی طرف سے جلدی کرنے کے رکوع میں ہی آکر ملا ہے تو چونکہ دین کی بنا آسانی اور نرمی پر ہے اس واسطے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رکعت ہوگئی ۔ وہ سورۃ فاتحہ کا منکر نہیں ہے بلکہ دیر میں پہنچنے کے سبب رخصت پر عمل کرتا ہے۔ میرا دل خدا نے ایسا بنایا ہے کہ ناجائز کام میں مجھے قبض ہو جاتی ہے اور میرا جی نہیں چاہتا کہ میں اُسے کروں اور یہ صاف ہے کہ جب نماز میں ایک آدمی نے تین حصوں کو پورا پالیا اور ایک حصہ میں یہ سبب کسی مجبوری کے دیر میں مل سکا ہے تو کیا حرج ہے۔ انسان کو چاہیے کہ رُخصت پر عمل کرے۔ ہاں جو شخص عمد اسستی کرتا ہے اور جماعت میں شامل ہونے میں دیر کرتا