ملفوظات (جلد 1) — Page 64
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۴ جلد اول اسے کیوں کھانے لگے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمًا و اسیرا (الدھر : 9) یہ بھی معلوم رہے کہ طعام کہتے ہی پسندیدہ طعام کو ہیں ۔ سڑا ہوا باسی طعام نہیں کہلاتا ۔ الغرض اگر اس رکابی میں سے جس میں ابھی تازہ کھانا اور لذیذ اور پسندیدہ رکھا ہوا ہے اور کھانا شروع نہیں کیا فقیر کی صدا پر نکال کر دے تو یہ تو نیکی ہے۔ بیکار اور نکمی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا۔ نیکی کا دروازہ تنگ ہے پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ یکمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ نص صریح ہے لن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران: ۹۳) جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔ اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیونکر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو۔ کیا صحابہ کرام مفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو حاصل ہوا۔ دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کے لئے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تو پھر کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہو سکتی ملتا ہے۔ پھر خیال کرو کہ رضی اللہ عنہم کا خطاب جو دل کو تسلی اور قلب کو اطمینان اور مولیٰ کریم کی رضا مندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا ؟ بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔ خدا ٹھگا نہیں جاتا۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو رضائے الہی کے حصول کے لئے تکلیف کی پروانہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملتی ہے۔ میں کھول کر کہتا ہوں کہ جب تک ہر بات پر اللہ تعالیٰ مقدم نہ ہو سچا مسلمان کون ہے؟ جاوے اور ل پر نظر ڈال کر وہ نہ دیکھ سکے کہ یہ میری ہے اس وقت تک کوئی آدمی سچا مومن نہیں کہلا سکتا۔ ایسا آدمی تو آل (عرف عام ) کے طور پر مومن یا مسلمان ہے۔