ملفوظات (جلد 1) — Page 53
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۳ جلد اول عیسائیوں کو اسی کفارہ کے مسئلہ کی گھڑت کے لئے پیش آئی۔ مجھے حیرت اور تعجب ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ایک اختراعی مسئلہ کی بنیاد قائم کرنے کے لئے اس بات کی بھی پروانہیں کی کہ خدا کی ذات پر کس قسم کا گندہ حرف آتا ہے۔ قرآنی تعلیم کا ہر ایک حکم معلل با غراض و مصالح ہے ہاں یہ خوبی قرآنی کا ! تعلیم اہے میں ہے کہ اس کا ہر ایک حکم معلل با غراض و مصالح ہے اور اس لئے جابجا قرآن کریم میں تاکید ہے کہ عقل، فہم، تدبر، فقاہت اور ایمان سے کام لیا جائے اور قرآن اور دوسری کتابوں میں یہی بین ما بہ الامتیاز ہے ۔ اور کسی کتاب نے اپنی تعلیم کو عقل اور تدبر کی دقیق اور آزاد نکتہ چینی کے آگے ڈالنے کی جرات ہی نہیں کی بلکہ انجیل خاموش کے چالاک اور گویا حامیوں نے اس شعور سے کہ انجیل کی تعلیم عقلی زور کے مقابل بے جان محض ہے ہو شیاری سے اپنے عقائد میں اس امر کو داخل کر لیا کہ تثلیث اور کفارہ ایسے راز ہیں کہ انسانی عقل ان کی کنہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ برخلاف اس کے فرقان حمید کی یہ تعلیم ہے ان في خَلْقِ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَةٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ الآية (ال عمران: ۱۹۱، ۱۹۲) یعنی آسمانوں کی بناوٹ اور زمین کی بناوٹ اور رات اور دن کا آگے پیچھے آنا دانش مندوں کو اس اللہ کا صاف پتہ دیتے ہیں جس کی طرف مذہب اسلام دعوت کرتا ہے۔ اس آیت میں کس قدر صاف حکم ہے کہ دانش مندا اپنی دانشوں اور مغزوں سے بھی کام لیں ۔ اور جان لیں کہ اسلام کا خدا ایسا گورکھ دھندا نہیں کہ اسے عقل پر پتھر مار کر بہ جبر اسلام کا خدا منوا یا جائے اور صحیفہ فطرت میں کوئی بھی ثبوت اس کے لئے نہ ہو بلکہ فطرت کے وسیع اوراق میں اس کے اس قدر نشانات ہیں جو صاف بتلاتے ہیں کہ وہ ہے۔ ایک ایک چیز اس کائنات میں اس نشان اور تختہ کی طرح ہے جو ہر سڑک یا گلی کے سر پر اس سڑک یا محلہ یا شہر کا نام معلوم کرنے کے لئے لگائے جاتے ہیں خدا کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور اس موجود ہستی کا پتہ ہی