ملفوظات (جلد 1) — Page 496
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۶ جلد اول لانظیر مدد کی اور آپ کو یہ مرتبہ ملا کہ صدیق کہلائے اور پہلے رفیق اور خلیفہ اول ہوئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایمان لکھا ہے کہ جب آپ تجارت سے واپس آئے تھے اور ابھی مکہ میں نہ پہنچے تھے کہ راستہ میں ہی ایک شخص ملا۔ اس سے پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔ اس نے کہا کہ اور تو کوئی تازہ خبر نہیں۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ تمہارے دوست نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے۔ ابوبکر نے وہیں کھڑے ہو کر کہا کہ اگر اُس نے یہ دعویٰ کیا ہے تو سچا ہے چنانچہ جب مکہ میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے واقعی پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ اُسی وقت مشرف باسلام ہو گئے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قبول اسلام کے لیے کسی اعجاز کی ضرورت نہ پڑی۔ اعجاز بینی کے خواہش مند وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو تعارف ذاتی نہیں ہوتا لیکن جس کو تعارف ذاتی ہو جاوے اُسے اعجاز کی ضرورت اور خواہش ہوتی ہی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے معجزہ نہیں مانگا کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے خوب واقف تھے اور خوب جانتے تھے کہ وہ راستباز اور امین ہے جھوٹا اور مفتری نہیں جب کہ کسی انسان پر کبھی افتر انہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ پر افترا کرنے کی کبھی جرات نہیں کر سکتا۔ پس یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نشان صرف اس لیے مانگا جاتا ہے کہ اس بات کے امکان کا اندیشہ گزرتا ہو کہ شاید جھوٹ ہی بولا ہو مگر جب یہ بات اچھی طرح پر معلوم ہو کہ مدعی صادق اور امین ہے پھر نشان بینی کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ یہ بھی یادر ہے کہ جو لوگ نشان دیکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ راسخ الایمان نہیں ہو سکتے بلکہ ہر وقت خطرہ کے محل میں رہتے ہیں۔ ایمان بالغیب کے ثمرات اُن کو نہیں ملتے کیونکہ ایمان بالغیب کے اندر ایک فعل نیکی کا محسن ظن بھی ہے۔ جس سے وہ جلد باز بے نصیب رہ جاتا ہے جو نشان دیکھنے کے لئے جلدی کرتا اور زور دیتا ہے۔ مسیح علیہ السلام کے حواریوں نے نزول مائدہ کے لئے زور دیا تو خدا تعالیٰ نے ان کو زجر الحکم جلد ۴ نمبر ۲۹ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۰ صفحه ۳، ۴