ملفوظات (جلد 1) — Page 495
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ما جلد اول وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ: ۲۰۲) اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے لیکن کس دنیا کو؟ حسنة الدنيا کو جو آخرت میں حسنات کی موجب ہو جاوے۔ اس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حسنات الآخرۃ کا خیال رکھنا چاہیے اور ساتھ ہی حسنۃ الدنیا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصول دنیا کا ذکر آگیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصول دنیا کے لئے اختیار کرنے چاہئیں۔ دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔ نہ وہ طریق کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسانی کا موجب ہو۔ نہ ہم جنسوں میں کسی عار وشرم کا باعث ۔ ایسی دنیا بے شک حسنة الآخرة کا موجب ہوگی ۔ پس یا درکھو کہ جو شخص خدا کے لئے زندگی وقف کر دیتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ ہے شست نه بنو بے دست و پا ہو جاتا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ دین اور الہی وقف انسان کو ہوشیار اور چابکدست بنادیتا ہے ۔ سستی اور کسل اُس کے پاس نہیں آتا۔ حدیث میں عمار بن خزیمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے میرے باپ کو فرمایا کہ تجھے کس چیز نے اپنی زمین میں درخت لگانے سے منع کیا تو میرے باپ نے جواب دیا کہ میں بڑھا ہوں ۔ کل مر جاؤں گا ۔ پس اُس کو حضرت عمرؓ نے فرمایا تجھ پر ضرور ہے کہ درخت لگاوے۔ پھر میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ خود میرے باپ کے ساتھ مل کر ہماری زمین میں درخت لگاتے تھے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ عجز اور کسل سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ سست نہ بنو۔ اللہ تعالیٰ حصول دنیا سے منع نہیں فرماتا ، بلکہ حسنۃ الدنیا کی دعا تعلیم فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ انسان بے دست و پا ہو کر بیٹھ رہے بلکہ اُس نے صاف فرمایا ہے لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم : ۴۰) اس لیے مومن کو چاہیے کہ وہ جدو جہد سے کام کرے لیکن جس قدر مرتبہ مجھ سے ممکن ہے یہی کہوں گا کہ دنیا کو مقصود بالذات نہ بنالو۔ دین کو مقصود بالذات ٹھیرا ؤ اور دنیا اس کے لئے بطور خادم اور مرکب کے ہو۔ دولت مندوں سے بسا اوقات ایسے کام ہوتے ہیں کہ غریبوں اور مفلسوں کو وہ موقع نہیں ملتا۔ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں خلیفہ اول نے جو بڑے ملک التجار تھے مسلمان ہو کر