ملفوظات (جلد 1) — Page 493
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۳ جلد اول اگست ۱۹۰۰ ء دنیا میں لوگ حکام دوسرے لوگوں حقیقی نفع رساں اللہ تعالی کی ہی ذات ہے میں کمی کاکوئی بھی کھا نے کی ایک سے قسم نفع خیالی اُمید پر ان کو خوش کرنے کے واسطے کس کس قسم کی خوشامد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ادنی ادنیٰ درجہ کے اردلیوں اور خدمت گاروں تک کو خوش کرنا پڑتا ہے حالانکہ اگر وہ حاکم راضی اور خوش بھی ہو جاوے تو اس سے صرف چند روز تک یا کسی موقع مخصوص پر نفع پہنچنے کی اُمید ہوسکتی ہے۔ اس خیالی اُمید پر انسان اُس کے خدمتگاروں کی ایسی خوشامدیں کرتا ہے کہ میں تو ایسی خوشامدوں کے تصور سے بھی کانپ اُٹھتا ہوں اور میرا دل ایک رنج سے بھر جاتا ہے کہ نادان انسان اپنے جیسے انسان کی ایک وہمی اور خیالی اُمید پر اس قدر خوشامد کرتا ہے۔ مگر اُس مُعطی حقیقی کی جس نے بدوں کسی معاوضہ کے اور التجا کے اس پر بے انتہا فضل کیے ہیں ذرا بھی پروا نہیں کرتا حالانکہ اگر وہ انسان اُس کو نفع پہنچانا بھی چاہے تو کیا ؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ کوئی نفع خدا تعالیٰ کے بڑوں پہنچ ہی نہیں سکتا ۔ ممکن ہے اس سے پیشتر کہ وہ نفع اٹھاوے نفع پہنچانے والا یا خود یہ اس دنیا سے اُٹھ جائے یا کسی ایسی خطرناک مرض میں مبتلا ہو جائے کہ کوئی حظ اور فائدہ ذاتی اس سے اُٹھا نہ سکے۔ غرض اصل بات یہی ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم انسان کے شاملِ حال نہ ہو۔ انسان کسی سے کوئی فائدہ اُٹھا ہی نہیں سکتا ۔ پھر جبکہ حقیقی نفع رساں اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ پھر کس قدر بے حیائی ہے کہ انسان غیروں کے دروازہ پر ناک رگڑتا پھرے۔ ایک خدا ترس مومن کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اپنے جیسے انسان کی ایسی خوشامد کرے جو اُس کا حق نہیں ہے۔ متقی کے لئے خود اللہ تعالیٰ ہر ایک قسم کی راہیں نکال دیتا ہے۔ اُس کو ایسی جگہ سے رزق ملتا ہے کہ کسی دوسرے کو علم بھی نہیں ہو سکتا ۔ اللہ اللہ تعالیٰ خود اس کا ولی اور مربی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بندے جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں اُن کے ساتھ وہ رافت اور محبت کرتا ہے چنانچہ خود فرماتا ہے وَاللهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ (البقرة: ۲۰۸)