ملفوظات (جلد 1) — Page 492
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۹۲ جلد اول اور فرمایا۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ معارف الہیہ کے بیان میں بلند چٹان پر قائم ہو گئے ہیں۔ لے ۲۶،۲۵ راگست ۱۹۰۰ء کی درمیانی شب کسی ز بر دست نشان کا پیش خیمہ جمعہ کے دن لاہور اسٹیشن پر سب مختلف المشارب لوگ جو ہمارے بغض میں ایک گھاٹ پانی پینے لگ گئے ہیں ۔ یوں جمع ہو گئے اور پیر صاحب گولڑوی کو سوار کرا کر شہر کے اندر سے اس طرح پر تبرا کرتے گزرے جیسے روافض سینہ پیٹتے اور قدوسیوں کو کوستے جاتے ہیں ۔ بطلان نے اسی طرح رونق پیدا کر لی جیسے اُس دن جب کہ دو جہاں کے سردار کو مکہ سے نکالا گیا تھا اور کفار قریش نے چند روز کے لئے چراغاں کر کے جھوٹی خوشی منائی تھی۔ آج حق کو جھوٹا کہا جارہا ہے اور راستی پاؤں تلے کچلی جارہی ہے اور بہت سے شقی چاروں طرف سے اُٹھے ہیں۔ آج وہ الہام پورا ہوا جو کچھ مدت ہوئی شائع کیا تھا۔ 66 وہ بیت الصدق کو بیت التزویر بنانا چاہتے ہیں ۔“ رات حضرت مرسل اللہ علیہ وسلم اس امر پر دیر تک گفتگو فرماتے رہے۔ فرمایا۔ ان شوروں سے ہم پر کیا رعب پڑ سکتا ہے۔ ہمیں تو یہ سارے شور ایک تمہید معلوم ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی اُس نصرت کی آمد کے لئے جو دیر سے معرضِ التوا میں ہے۔ عادت اللہ ہمیشہ یوں ہی ہے کہ جب تکذیب شدت سے ہوتی ہے تو غیرت الہی بھی اسی قدر نصرت کے لئے جوش مارتی ہے۔ آٹھم کے شور پر جو ہماری تکذیب اور اہانت ہوئی۔ خدا تعالیٰ کی غیرت نے بہت جلد لیکھرام کا نشان ظاہر کیا۔ اسی طرح ہم قوی امید رکھتے ہیں کہ یہ شور تکذیب پیش خیمہ ہے کسی زبر دست نشان کا۔ ممکن ہے کہ کوئی بد قسمت اس شور کے رعب میں آکر کٹ جائے ۔ اُس کا علاج ہم کیا کر سکتے ہیں۔ اس لیے کہ سنت اللہ یہی ہے۔ ہے الحکم جلد ۴ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ راگست ۱۹۰۰ صفحه ۱۲ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ راکتوبر ۱۹۰۶ ء صفحه ۸