ملفوظات (جلد 1) — Page 486
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٧ جلد اول عزیز نبی کی دوباره زندگی کا کار راز اور مسئلہ وفات وحیات مسیحی ورقات مسیح وفات علیہ کے منکر السلام اپنے کی دلائل میں حضرت عزیر کی زندگی کا سوال پیش کرتے ہیں کہ وہ سو برس مر کر پھر زندہ ہوا۔ مگر یاد رہے کہ یہ احیاء بعد الامانت ہے اور احیاء کی کئی قسمیں ہیں۔ اول یہ کہ کوئی آدمی مر نے کے بعد ایسے طور پر زندہ ہو جاوے کہ قبر پھٹ جاوے اور وہ اپنا بور یا بدھنا استر بستر اٹھا کر دنیا میں آجاوے۔ دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ایک نئی زندگی بخشے ۔ جیسے اہل اللہ کو ایک دوسری زندگی دی جاتی ہے جس طرح پر ایک شخص نے خدا سے ڈر کر کہا تھا کہ میری راکھ اڑا دی جاوے۔ اس پر خدا تعالیٰ نے اس کو زندہ کیا۔ یہ راکھ کا اکٹھا کرنا بھی ایک جسمانی زندگی تھی۔ مرنے کے بعد جو زندگی ملتی ہے۔ وہاں تو راکھ کا اکٹھا کرنا نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ سب کچھ ہوا مگر اپنے گھر تو نہ آیا۔ مولوی صاحب نے کہا تھا کہ تسلی کے لئے ایک بات باقی ہے کہ ہم تجھ کو لوگوں کے لئے نشان بناویں گے۔ میں نے کہا تھا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ لوگوں کے سمجھے ہوئے کے موافق نشان ہوا اور ایسا ہو کہ قبر پھٹ جاوے اور مردہ نکل آوے۔ یہ غلط بات ہے۔ جوز بعض آدمی حجۃ اللہ آیات اللہ کہلاتے ہیں۔ بعض وجود ہی نشان ہوتے ہیں۔ بعض کے مرنے کے بعد نشان قائم رہتے ہیں۔ یہ بیان کرنا ضروری تھا کہ اس اعتراض کا منشا کیا ہے جس راہ کو ہم نے اختیار کیا ہے اس کے خلاف ہے۔ ہمارے مخالفوں کا مسیح کی نسبت تو یہ اعتقاد ہے کہ وہ زندہ ہی آسمان پر گئے اور زندہ ہی واپس آئیں گے، عزیر کے قصہ سے اس کو کیا تعلق اور کیا مشابہت ہے؟ یہ مشابہت تو تب ہوتی اگر معترض کا یہ مذہب ہوتا کہ مسیح علیہ السلام قبر پھٹ کر نکلیں گے۔ جبکہ ان کا یہ مذہب ہی نہیں تو پھر تعجب کی بات ہے کہ اس قصہ کو جو قیاس مع الفارق ہے کیوں پیش کرتے ہیں؟ ان کے معتقدات میں تو یہ ہے کہ کوئی اور شخص مسیح کا ہم شکل بن کر پھانسی ملا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام