ملفوظات (جلد 1) — Page 485
ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ٢٧ جلد اول سکون وراحت ۔ اب اس تاریکی اور ہلاکت کے زمانہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں آپ نے آکر کیسے کامل طور پر اس میزان کے دونوں پہلو درست فرمائے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اپنے اصلی مرکز پر قائم کر دکھایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی طاقت کا کمال اس وقت ذہن میں آسکتا ہے جبکہ اُس زمانہ کی حالت پر نگاہ کی جاوے۔ مخالفوں نے آپ کو اور آپ کے متبعین کو جس قدر تکالیف پہنچائیں اور اس کے بالمقابل آپؐ نے ایسی حالت میں جب کہ آپ کو پورا اقتدار اور اختیار حاصل تھا ان سے جو کچھ سلوک کیا وہ آپ کی علو شان کو ظاہر کرتا ہے ۔ ابو جہل اور اس کے دوسرے رفیقوں نے کون سی تکلیف تھی جو آپ کو اور آپ کے جاں نثار خادموں کو نہیں دی۔ غریب مسلمان عورتوں کو اونٹوں سے باندھ کر مخالف جہات میں دوڑایا اور وہ چیری جاتی تھیں محض اس گناہ پر کہ وہ لا اله الا اللہ پر کیوں قائل ہوئیں۔ مگر آپ نے اس کے مقابل صبر و برداشت سے کام لیا۔ اور جبکہ مکہ فتح ہوا تو لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (يوسف: ۹۳) کہہ کر معاف فرمایا۔ یہ کس قدر اخلاقی کمال ہے جو کسی دوسرے نبی میں نہیں پایا جاتا۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ - غرض بات یہ ہے کہ اخلاق فاضلہ حاصل کرو کہ نیکیوں کی کلید اخلاق ہی ہیں ۔ ۱۶ جولائی ۱۹۰۰ ء دو لطیف شعر هر که روشن شد دل و جان و درون از حضرتش صحبتش کیمیا باشد بسر برون دی در چیست دنیا چون شب تار و زمان ابر سیاه آفتابی رہنما یک ساعتی خدمتش الحکم جلد ۴ نمبر ۲۵ مورخه ۹ ۱ جولائی ۱۹۰۰ء صفحه ۱ تا ۵ در