ملفوظات (جلد 1) — Page 479
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۹ جلد اول فطرت اور عقلی حالت اور جذبات کی حالت میں اعلیٰ درجہ کی صفائی حاصل ہو جاوے تو کچھ بات ہے ورنہ کچھ بھی نہیں ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کے اشغال چھوڑ دو ۔ خدا تعالیٰ نے دنیا کے شغلوں کو جائز رکھا ہے کیونکہ اس راہ سے بھی ابتلا آتا ہے اور اسی ابتلا کی وجہ سے انسان چور، قمار باز، ٹھگ ، ڈکیت بن جاتا ہے اور کیا کیا بری عادتیں اختیار کر لیتا ہے مگر ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ دنیوی شغلوں کو اس حد تک اختیار کرو کہ وہ دین کی راہ میں تمہارے لیے مدد کا سامان پیدا کر سکیں اور مقصود بالذات اس میں دین ہی ہو۔ پس ہم دنیوی شغلوں سے بھی منع نہیں کرتے اور یہ بھی نہیں کہتے کہ دن رات دنیا ہی کے دھندوں اور بکھیڑوں میں منہمک ہو کر خدا تعالیٰ کا خانہ بھی دنیا ہی سے بھر دو۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ محرومی کے اسباب بہم پہنچاتا ہے اور اس کی زبان پر نرا دعوی ہی رہ جاتا ہے۔ الغرض زندوں کی صحبت میں رہوتا کہ زندہ خدا کا جلوہ تم کو نظر آوے۔لے ور جولائی ۱۹۰۰ء یا درکھو! ہمدردی تین قسم کی ہے۔ اوّل جسمانی ، دوم مالی ، تیسری دعا بہترین ہمدردی ہے قسم ہمدردی کی دعا ہے۔ جس میں نہ صرف زر ہوتا ہے اور نہ زور لگانا پڑتا ہے اور اس کا فیض بہت ہی وسیع ہے کیونکہ جسمانی ہمدردی تو اس صورت میں ہی انسان کر سکتا ہے جب کہ اس میں طاقت بھی ہو۔ مثلاً ایک ناتواں مجروح مسکین اگر کہیں پڑا تڑپتا ہو تو کوئی شخص جس میں خود طاقت و توانائی نہیں ہے کب اُس کو اُٹھا کر مدد دے سکتا ہے۔ اسی طرح پر اگر کوئی بے کس بے بس، بے سروسامان انسان بھوک سے پریشان ہو تو جب تک مال نہ ہو اس کی ہمدردی کیونکر ہوگی۔ مگر دعا کے ساتھ ہمدردی ایک ایسی ہمدردی ہے کہ نہ اس کے واسطے کسی مال کی ضرورت ہے اور نہ کسی طاقت کی حاجت بلکہ جب تک انسان انسان ہے وہ دوسرے کے لیے دعا کر سکتا ہے اور اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس ہمدردی کا فیض بہت وسیع ہے اور اگر اس ہمدردی سے الحکم جلد ۶ نمبر ۲۶ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۵ تا ۱۲