ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 478 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 478

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷۸ جلد اول بیٹھے۔ آخر نتیجہ یہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللهُ اللهُ فِي أَصْحَابی - گویا صحابہؓ خدا کا روپ ہو گئے ۔ یہ درجہ ممکن نہ تھا کہ اُن کو ملتا اگر دور ہی بیٹھے رہتے ۔ یہ بہت ضروری مسئلہ ہے۔ خدا کا قرب ، بندگانِ خدا کا قرب ہے اور خدا تعالیٰ کا ارشاد كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبۃ: ۱۱۹) اس پر شاہد ہے۔ یہ ایک ستر ہے جس کو تھوڑے ہیں جو سمجھتے ہیں۔ مامور من اللہ ایک ہی وقت میں ساری باتیں کبھی بیان نہیں کر سکتا بلکہ وہ اپنے دوستوں کے امراض کی تشخیص کر کے حسب موقع اُن کی اصلاح بذریعہ وعظ و نصیحت کرتا رہتا ہے اور وقتاً فوقتاً ان کے امراض کا ازالہ کرتا رہتا ہے۔ اب جیسے آج میں ساری باتیں بیان نہیں کر سکتا ممکن ہے کہ بعض آدمی ایسے ہوں جو آج ہی کی تقریر سُن کر چلے جاویں اور بعض باتیں ان میں اُن کے مذاق اور مرضی کے خلاف ہوں تو وہ محروم گئے لیکن جو متواتر یہاں رہتا ہے وہ ساتھ ساتھ ایک تبدیلی کرتا جاتا ہے اور آخر اپنے مقصد کو پالیتا ہے۔ ہر ایک آدمی سچی تبدیلی کا محتاج ہے۔ جس میں تبدیلی نہیں ہے وہ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ اعلی کا مصداق ہے۔ مجھے بہت سوز وگداز رہتا ہے کہ جماعت میں جماعت میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو ایک پاک تبدیلی ہوں۔ جونقشہ اپنی جماعت کی تبدیلی کا میرے دل میں ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہوا اور اس حالت کو دیکھ کر میری وہی حالت ہے۔ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء :(۴) میں نہیں چاہتا کہ چند الفاظ طوطے کی طرح بیعت کے وقت رٹ لیے جاویں اس سے کچھ فائدہ نہیں ۔ تزکیہ نفس کا علم حاصل کرو کہ ضرورت اسی کی ہے۔ ہماری یہ غرض ہرگز نہیں کہ مسیح کی وفات ، حیات پر جھگڑے اور مباحثہ کرتے پھرو۔ یہ ایک ادنی سی بات ہے اسی پر بس نہیں ہے۔ یہ تو ایک غلطی تھی جس کی ہم نے اصلاح کر دی لیکن ہمارا کام اور ہماری غرض ابھی اس سے بہت دور ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرو اور بالکل ایک نئے انسان بن جاؤ اس لیے ہر ایک کو تم میں سے ضروری ہے کہ وہ اس راز کو سمجھے اور ایسی تبدیلی کرے کہ وہ کہہ سکے کہ میں اور ہوں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً جب تک ایک مدت تک ہماری صحبت میں رہ کر کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں اور ہو گیا ہوں اسے فائدہ نہیں پہنچتا۔