ملفوظات (جلد 1) — Page 467
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٤٦٧ جلد اول جو کچھ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے قانون قدرت اس کو پوری مدد دیتا ہے۔ گویا جو قرآن میں ہے وہی کتاب مکنون میں ہے۔ اس کا راز انبیاء علیہم السلام کی پیروی کے بدوں سمجھ میں نہیں آ سکتا اور یہی وہ سر ہے جو لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) میں رکھا گیا ہے۔ غرض پہلے قرآنی تعلیم کو قانون قدرت سے مستحکم کیا ہے۔ مثلاً قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی صفت وحدہ لاشریک بتلائی ۔ جب ہم قانون قدرت میں نظر کرتے ہیں تو ماننا پڑتا ہے کہ ضرور ایک ہی خالق و مالک ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ دل بھی اُسے ہی مانتا ہے اور دلائل قدرت سے بھی اسی کا پتا لگتا ہے کیونکہ ہر ایک چیز جو دنیا میں موجود ہے وہ اپنے اندر کرویت رکھتی ہے۔ جیسے پانی کا قطرہ اگر ہاتھ سے چھوڑیں تو وہ کروی شکل کا ہو گا اور کروی شکل تو حید کو مستلزم ہے اور یہی وجہ ہے کہ پادریوں کو بھی ماننا پڑا کہ جہاں تثلیث کی تعلیم نہیں پہنچی وہاں کے رہنے والوں سے توحید کی پرسش ہوگی ۔ چنانچہ پادری فنڈ ر نے اپنی تصنیفات میں اس امر کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر قرآن کریم دنیا میں نہ بھی ہوتا تب بھی ایک ہی خدا کی پرستش ہوتی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کا بیان صحیح ہے کیونکہ اس کا نقش انسانی فطرت اور دل میں موجود ہے اور دلائل قدرت سے اس کی شہادت ملتی ہے۔ برخلاف اس کے انجیلی تثلیث کا نقش نہ دل میں ہے نہ قانونِ قدرت اس کا مؤید ہے۔ یہی معنے ہیں کتب احکمَتُ أیتہ کے یعنی قانون قدرت سے اس کی تعلیموں کو ایسا احکام اور استوار کیا گیا ہے کہ مشرک و عیسائی کو بھی ماننا پڑا کہ انسان کے مادہ فطرت سے توحید کی باز پرس ہوگی ۔ دوسری وجہ استحکام کی خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں ۔ کوئی نبی ، کوئی مامور دنیا میں ایسا نہیں آتا جس کے ساتھ تائیدات ر تائیدات الہی شامل نہ ہوں اور یہ تائیدات اور نشانات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت پر شوکت اور پُر قوت تھے۔ آپؐ کے حرکات سکنات میں، کلام میں نشانات تھے۔ گویا آپ کا وجود از سر تا پا نشانات الہی کا پتلا تھا۔ تیسرا احکام نبی کا پاک چال چلن اور راستبازی ہے یہ منجملہ ان باتوں کے ہے جو عقلمندوں کے نزدیک امین ہونا بھی ایک دلیل ہے۔ جیسے حضرت ابو بکر صدیق نے اس سے دلیل پکڑی۔