ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 466 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 466

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۶ جلد اول شہید ، صدیق ، نبی کا کمال ثبوتی ہے۔ شہید ایمان کو ایسا قوی کرتا ہے گو یا خدا کو دیکھتا ہے۔ صدیق عملی طور پر صدق سے پیار کرتا اور کذب سے پر ہیز کرتا ہے۔ اور نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ ردائے الہی کے نیچے آجاتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ کمال کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہو سکتے اور مولوی یا علماء کہتے ہیں کہ بس ظاہری طور پر کلمہ پڑھ لے اور نماز روزہ کے احکام کا پابند ہو جاوے اس سے زیادہ ان احکام کے ثمرات اور نتائج کچھ نہیں اور نہ ان میں کچھ حقیقت ہے۔ یہ بڑی بھاری غلطی ہے اور ایمانی کمزوری ہے۔ انہوں نے رسالت کے مدعا کو نہیں سمجھا۔ اللہ تعالیٰ جو ماموروں اور مرسلوں کو خلق اللہ کی ہدایت کے واسطے بھیجتا مامورین کی غرض اللہ ہے۔ کیا اس لئے بھیجتا ہے کہ لوگ ان کی پرستش کریں ۔ نہیں بلکہ ان کو نمونہ بنا کر بھیجا جاتا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے بادشاہ اپنے ملک کے کاریگروں کو کوئی تلوار دے تو اس کی مراد یہی ہے کہ وہ بھی ویسی تلوار بنانے کی کوشش کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو مامور اور مرسل ہوتے ہیں۔ اخلاق فاضلہ اور اوصاف حمیدہ سے متصف بناتا ہے اور دنیا کی طرف مامور کرتا ہے تا لوگ ان کے اخلاق اور کمالات سے حصہ لیں اور اسی طرز وروش پر چلیں کیونکہ یہ لوگ اس وقت تک فائدہ پہنچاتے ہیں جب تک زندہ ہوں ۔ گزرنے کے بعد تبتل ہوجاتا ہے۔ اس واسطے صوفی لوگ کہتے ہیں کہ زندہ بلی مردہ شیر سے بہتر ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے اگر كتب أحْكِمَتُ أَيتُه (هود: ٢) الف سے مراد اللہ اور ل سے مراد جبرائیل اور رسے مراد رسل ہیں۔ چونکہ اس میں یہی قصہ ہے کہ کون سی چیزیں انسانوں کو ضروری ہیں ۔ اس لئے فرمایا كتب أحكمت ايتہ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کی آیات پکی اور اس اور استوار ہیں۔ قرآن کریم کی تعلیموں کو اللہ تعالیٰ نے کئی طرح پر مستحکم کیا تا کہ کسی قسم کا استحکام کتاب اللہ تک نہ رہے اور اسی لیے شروع میں ہی فرما یالا ریب فیہ (البقرة :) فِيهِ ٣) یہ استحکام کئی طور پر کیا گیا ہے۔ اولاً ۔ قانون قدرت سے استواری اور استحکام قرآنی تعلیموں کا قانون قدرت سے کیا گیا۔