ملفوظات (جلد 1) — Page 461
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۱ جلد اول آپ پاتے ہیں چونکہ ترقی تدریجاً ہوتی ہے اس لیے صحابہ کی ترقیاں بھی تدریجی طور پر ہوئی تھیں مگر انبیاء کے دل کی بناوٹ بالکل ہمدردی ہی ہوتی ہے اور پھر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو جامع جمیع کمالات نبوت تھے۔ آپ میں یہ ہمدردی کمال درجہ پر تھی۔ آپ صحابہ کو دیکھ کر چاہتے تھے کہ پوری ترقیات پر پہنچیں۔ لیکن یہ عروج ایک وقت پر مقدر تھا۔ آخر صحابہ نے وہ پایا جو دنیا نے کبھی نہ پایا تھا اور وہ دیکھا جو کسی نے نہ دیکھا تھا۔ سارا مدار مجاہدہ پر ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا سارا مدار مجاہدہ پر ہے تنهْدِيَنَّهُمْ سُبُلنا (العنکبوت:۰) جو لوگ ہم میں ہو کر کوشش کاوو کرتے ہیں۔ ہم اُن کے لیے اپنی تمام راہیں کھول دیتے ہیں ۔ مجاہدہ کے بدوں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ سید عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک نظر میں چور کو قطب بناد یا دھو کے میں پڑے ہوئے ہیں اور ایسی ہی باتوں نے لوگوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی کی جھاڑ پھونک سے کوئی بزرگ بن جاتا ہے۔ جو لوگ خدا کے ساتھ جلدی کرتے ہیں وہ ہلاک ہو جاتے ہیں۔ دنیا میں ہر چیز کی ترقی تدریجی ہے۔ روحانی ترقی بھی اسی طرح ہوتی ہے اور بدوں مجاہدہ کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اور مجاہدہ بھی وہ ہو جو خدا تعالیٰ میں ہو کر ۔ یہ نہیں کہ قرآن کریم کے خلاف خود ہی بے فائدہ ریاضتیں اور مجاہدہ جو گیوں کی طرح تجویز کر بیٹھے ۔ یہی کام ہے جس کے لئے خدا نے مجھے مامور کیا ہے تا کہ میں دنیا کو دکھلا دوں کہ کس طرح پر انسان اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ قانون قدرت ہے۔ نہ سب محروم رہتے ہیں اور نہ سب ہدایت پاتے ہیں۔ لے الحکم جلد ۴ نمبر ۱۶ مورخہ یکم مئی ۱۹۰۰ صفحه ۶