ملفوظات (جلد 1) — Page 460
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۰ جلد اول کرتے ہیں اور اس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون احسان ہیں اور یہ مبارک سلطنت نیکی اور ہدایت پھیلانے میں کامل مددگار ہے۔ پس اس کے خلاف محاربہ کے خیالات رکھنے سخت بغاوت ہے اور یہ قطعی حرام ہے۔ وہ اپنے قلم اور زبان سے جاہلوں کو سمجھائیں اور اپنے دین کو بدنام کر کے دنیا کو ناحق کا ضرر نہ پہنچائیں ۔ ہم تو گورنمنٹ برطانیہ کو آسمانی برکت سمجھتے ہیں اور اس کی قدر کرنا اپنا فرض ۔ افسوس ہے مولویوں نے خود تو اس کام کو کیا نہیں اور ہم نے جب ان جاہلانہ خیالات کو دلوں سے مٹانا چاہا تو ہم کو دجال کہا۔ صرف اس واسطے کہ ہم محسن گورنمنٹ کے شکر گزار ہیں ۔ مگر ان کی مخالفت ہمارا کیا بگاڑ سکتی تھی ۔ ہم نے بیسیوں رسالے اس مضمون کے عربی، فارسی، اردو، انگریزی میں شائع کیے اور ہزاروں اشتہار مختلف بلاد وامصار میں تقسیم کر دیئے ہیں۔ اس لئے نہیں کہ گورنمنٹ سے ہم کوئی عزت چاہتے ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم اس کام کو اپنا ضروری فرض سمجھتے ہیں اور اگر ہم کو اس خدمت کے بجالانے میں تکلیف بھی ہو تو ہم پروا نہیں کرتے کیونکہ خدا نے فرمایا ہے کہ احسان کی جزا احسان ہے۔ پس پوری اطاعت اور وفاداری گورنمنٹ برطانیہ کی مسلمانوں کا فرض ہے ۔ متی ١٩٠٠ء انبیاء میں ہمدردی کا جو نبی کا آنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ قوت قدی ہوتی ہے اور اُن کے دل میں لوگوں کی ہمدردی ، نفع رسانی اور عام خیر خواہی کا کراد ا بے تاب کر ا دینے والا جوش ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء :(۴) یعنی کیا تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اس خیال سے کہ وہ مومن نہیں ہوتے؟ اس کے دو پہلو ہیں ایک کافروں کی نسبت کہ وہ مسلمان کیوں نہیں ہوتے۔ دوسرا مسلمانوں کی نسبت کہ اُن میں وہ اعلیٰ درجہ کی رُوحانی قوت کیوں نہیں پیدا ہوتی جو الحکم جلد ۴ نمبر ۱۴ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۰ء صفحہ ۱۱،۱۰