ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 449

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۹ جلد اول - سے ماں بہن شناخت ہو جائے گی اور حق تو یہ تھا کہ وید کے ذمہ یہ فرض تھا کہ جہاں اس نے یہ پاکیزگی اور اخلاق کی جڑ کاٹنے والا مسئلہ ایجاد کیا تھا اگر اسے کوئی سوجھ اور سوچ بچار کی طاقت ہوتی تو ساتھ ہی علامات بھی بیان کر دیتا۔ جس سے ایسے رشتوں سے اجتناب کرنے کی کلید ہاتھ میں آریوں کے آجاتی مگر ضروری تھا کہ وید کی تعلیم کی پیشانی پر نقص کا داغ لگارہتا تو کہ ہر زمانہ میں تدبر کرنے والے اس کے بطلان میں پہچانے جاسکیں۔ ایک طرف تو یہ حال ہے کہ نانی اور نانی کی بھی پڑنانی تک کے رشتہ میں ناطہ نہیں کرتے اور ہم لوگوں میں جو چا یا ماموں کی بیٹی سے رشتہ کرتے ہیں اس پر اعتراض کرتے ہیں ۔ مگر دوسری طرف آپ ماں بہن کے بیاہ لانے پر کوئی دلیل نہیں دیتے۔ یا تو ہزاروں کوس چلے گئے یا ماں بہن کو بھی بیاہ لائے ۔ کسی قوم میں ایسا اندھیر نہیں ۔ افسوس ان کے پرمیشر نے ان کو ناپاکی میں تو ڈال دیا اور پھر کوئی فہرست بھی نہ دی اور نہ بتایا کہ فلاں گدھے یا بیل سے کام نہ لینا۔ یہ تیرے فلاں رشتہ دار ہیں ۔ اور فلاں فلاں علامت والی عورت سے رشتہ نہ کرنا کہ وہ تیری حقیقی ماں یا دادی یا خالہ یا بہن یا بھتیجی جنم لے کر دوبارہ آئی ہے ۔ اصل میں یہ لوگ تو معذور ہیں۔ یہ سارا ظلم پر میشر کی گردن پر جس نے فہرست نہ دی ۔ نیوگ پھر تیسری ناپاکی و ویدوں کی تعلیم کا عرق اور گل سرسبد بتائی گئی ہے نیوگ ہے ۔ جس کی نیوگ تفسیر یہ ہے کہ ایک عورت جیتے جاگتے خاوند کے رو برو گیارہ آدمیوں سے ہم بستر ہو سکتی ہے۔ اگر مرد عورت جوان ہوں اور چند سال شادی پر گزر جاویں اور اولاد نہ ہو تو دوسرے کا نطفہ لینے کے لئے عورت اس سے ہم بستر ہو اس لئے کہ بدوں اولاد کے شرگ کا ملنا محال ہے اور دیوث شوہر کو لازم ہے کہ بیرج داتا کے لئے عمدہ معجونات اور لطیف مقویات طیار کرائے تا کہ وہ تھک نہ جاوے اور کوئی ضعف اسے لاحق نہ ہو جائے اور وید کی رو سے بستر ، رضائی اور چار پائی سب اسی کی ہو اور غذا بھی اسی کی کھاوے اور نصف بچے بھی لے لیوے۔ سوچو! یہ کیسا خاوند ہے کہ ایک کوٹھری میں آپ دیوث ہے اور دوسری کوٹھری میں اس کی بیاہتا بیوی غیر مرد سے منہ کالا کرا رہی ہے اور آریہ ان کی حرکات کی آوازیں سنتا ہے اور دل میں خوش ہو رہا ہے کہ اب اس پانی سے اس کی امید کا کھیت